Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1694

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس قال: جعل في قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم قطيفة حمراء. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ کمبل ڈالا گیا ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ حضرت شقران غلام رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا اب میں یہ کمبل کسے اوڑھے ہوئے دیکھوں گا،بے تابی میں قبر انور میں کود گئے اور بستر کی طرح اسے زمین پر بچھادیا۔سرخ سے مراد سرخ دھاری والا ہے نہ کہ خالی سرخ۔خیال رہے کہ یہ عمل شریف تمام صحابہ کی موجودگی میں ہوا اور کسی نے اس پر انکار نہ کیا لہذا یہ فعل شریف بالکل جائز ہوا۔علماء فرماتے ہیں کہ یہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہےکسی اور کے لیے قبر میں کچھ بچھاناجائزنہیں کیونکہ زمین نہ پیغمبر کاجسم کھاسکتی ہے اور نہ ان کا کفن و بستر لہذا اس میں مال کی بربادی نہیں،دیکھو سلیمان علیہ السلام بعد وفات ایک سال یا چھ مہینہ عصا کے سہارے کھڑے رہے دیمک نے آپ کی لاٹھی کھائی قدم نہ کھایا اور آپ کا لباس نہ گلا نہ میلا ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1694