Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1706

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ قَبْرًا لَيْلًا فَأُسْرِجَ لَهٗ بِسِرَاجٍ فَأَخَذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَقَالَ: “رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تَلَّاءً لِلْقُرْآنِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيْفٌ

وعنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل قبرا ليلا فأسرج له بسراج فأخذ من قبل القبلة وقال: “رحمك الله إن كنت لأواها تلاء للقرآن” . رواه الترمذي وقال في شرح السنة: إسناده ضعيف

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات کے وقت قبر میں تشریف لے گئے تو آپ کے لیئے چراغ جلایا گیا ۱∞؎حضور نے میت کو قبلہ کی طرف سے لیا ۲؎اور فرمایا الله تم پر رحم کرے تم بہت زاری کرنے اور تلاوت قرآن کرنے والے تھے۳؎(ترمذی)شرح سنہ نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رات میں میت کو دفن کیا تو میت کے لیئے یا حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے چراغ سے روشنی کی گئی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ قبر پر آگ لے جانا منع ہے مگر چراغ لے جانا جائز کیونکہ یہ روشنی کے لیے ہے نہ کہ مشرکین سے مشابہت کے لیے،مشرکین میت کے ساتھ آگ لے جاتے ہیں آگ،کی پوجاکرنے یا میت کو جلانے کے لیے لہذا بزرگوں کے مزار کے پاس لوبان یا اگربتی جلانا جائز ہے تاکہ میت کو فرحت ہو اور زائرین کو راحت اسی لیے میت کے کفن کو دھونی دینا سنت ہے جسے فقہاءاستجمار کہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ضرورت کے وقت قبر پر چراغ جلانا جائز ہے لہذا جن بزرگوں کے مزاروں پر دن رات زائرین کا ہجوم اور تلاوت قرآن کا دور رہتا ہے وہاں ضرور رات کو روشنی کی جائے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کے روضہ انور پر ہمیشہ سے اور اب نجدیوں کے زمانہ میں اور زیادہ اعلیٰ درجہ کی روشنی ہوتی ہے،خاص گنبد شریف پر بیسیوں قمقمے نصب ہیں۔جن احادیث میں قبر پر چراغ جلانے سے ممانعت ہے وہاں بلاضرورت چراغ رکھ آنامراد ہے کہ اس میں اسراف ہے۔خیال رہے کہ بزرگوں کا احترام ظاہر کرنے کے لیے بھی روشنی کرسکتے ہیں،جیسے کعبہ معظمہ کے احترام کے لیے اس پر غلاف رہتا ہے اور دروازۂ کعبہ پر بڑی قیمتی شمع کافوری جلائی جاتی ہے،رمضان میں مسجدوں کا چراغاں بھی یہیں سے لیا گیا،دیکھو"جاءالحق"حصہ اول۔۲؎یعنی میت کو قبر کے قبلہ کی جانب سے اتارا،یہی امام اعظم کا قول ہے اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔اس کی پوری بحث ابھی اگلی حدیث میں ہم کرچکے ہیں۔۳؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے میت سے یہ خطاب کرتے ہوئے دفن کیا۔اس سےمعلوم ہوا کہ مؤمن کی بعد وفات تعریفیں کرنا چاہئیں،نیز مردے سنتے ہیں زندہ انہیں سلام بھی کریں،بلکہ انہیں خطاب کرکے بات چیت بھی۔مُردوں کا سننا اور ان سے بات چیت کرنا صریح آیتوں اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"علم القرآن"میں دیکھو،قرآن پاک میں جو ہے کہ آپ اندھوں کو ہدایت نہیں کرسکتے اور مُردوں کو سنا نہیں سکتے وہاں دل کے اندھے اور مردے مراد ہیں یعنی کفار اسی لیے وہاں مُردوں کا مقابلہ مؤمن سے کیا گیا کہ فرمایا گیا:"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَاخیال رہے کہ یہ میت سیدنا عبد الله ذوالبجادین ہیں۔(مرقاۃ)۴؎مگر ترمذی نے اس حدیث کو حسن فرمایا کیونکہ اس کی اسناد میں منہال ابن خلیفہ ہیں جنہیں ابن معین نے تو ضعیف کہا مگر دوسرےمحدثین نےثقہ کہا جن کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہوئی۔تعجب ہے کہ شوافع ترمذی کے حسن کہنے کا ذکر نہیں کرتے اور شرح سنہ کے ضعیف کہنے کو بیان کرتے ہیں،نیز حیرت ہے کہ اس حدیث کو حسن ہونے کے باوجود قبول نہیں کرتے اورپچھلی حدیث جو ابھی گزری جو بالاتفاق ضعیف ہے اس پرعمل کرتے ہیں۔امام سیوطی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے حضرت ابن مسعود سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں نبی صلی الله علیہ وسلم اورحضرات صدیق و فاروق عبد الله ذوالبجادین کے دفن کا انتظام فرمارہے ہیں اورحضورصلی الله علیہ وسلم انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتار رہے ہیں اور یہ فرمارہے ہیں اور بعد دفن فرمایا الٰہی میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا حتی کہ میں نے تمنا کی کہ میں یہ میت ہوتا۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1706