Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1717

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ وَأَسْرِعُوا بِهٖ إِلٰى قَبْرِهٖ وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهٖ فَاتِحَةُ الْبَقَرَةِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ. وَقَالَ: وَالصَّحِيْحُ أَنَّهٗ مَوْقُوْفٌ عَلَيْهِ

وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: “إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة” . رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا جب کوئی مرجائے تو اسے روک نہ رکھو اس کی قبر تک جلدی پہنچاؤ ۱∞؎اس کے سر کے پاس سورۂ بقر کا شروع اور پیروں کے پاس بقر کا آخری رکوع پڑھو۲؎(بیہقی ،شعب الایمان )اور فرمایا صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث ان پرموقوف ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بلاضرورت اس کے دفن میں دیر نہ لگاؤ کہ اس سے تمہیں بھی تکلیف ہے اورمیت کے پھولنے پھٹنے کا بھی اندیشہ۔اس حکم سے نبی صلی الله علیہ وسلم اور سلاطین اسلامیہ علیٰحدہ ہیں،سلطان کا دفن خلیفہ کے مقرر ہونے کے بعد ہوگا اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کا دفن وفات سے تیسرے روز ہوا،یہ روکنا ضرورۃً ہے جیسے سلیمان علیہ السلام کا دفن وفات سے سال یا چھ مہینہ کے بعد ہوا تکمیل مسجد کے لیئے۔۲؎یعنی بعد دفن قبر کے سرہانےالٓمسےمُفْلِحُوْنَتک اور قبر کی پائنتیاٰمَنَ الرَّسُوْلُسے آخر تک پڑھوکیونکہ جیسے نزع کے وقت سورۂ یٰسین پڑھنے سے جانکنی آسان ہوتی ہے ایسے ہی بعد دفن یہ رکوع پڑھنے سے قبر کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔مرقات میں ہے کہ امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں جب بھی قبرستان جاؤ توقُلْ ھُوَاللّٰہُ،فلق اور ناس اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر قبر والوں کو ثواب بخشو اور جب انصار میں کوئی فوت ہوتا تو وہ حضرات عرصہ تک قبر پر آتے جاتے رہتے۔فوائد زنجانی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو قبرستان جائے اور وہاں"اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ"،"قُلْ ھُوَاللّٰہُ"اورالحمدپڑھے پھر یہ کہے کہ الٰہی میں نے جو کچھ پڑھا اس کا ثواب ان قبر والے مؤمنوں کو بخشا تو وہ تمام مؤمن قیامت میں اس کی شفاعت کریں گے،نووی نے شرح مہذب میں فرمایا زیارت قبور کرنے والےکو چاہئے کہ کچھ قرآن پڑھے پھر ان کے لیئے دعا کرے،دوسری جگہ فرمایا کہ قبر کے پاس بیٹھ کر قرآن شریف پڑھنا بہت افضل ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے ایصال ثواب کے بہت دلائل دیئے ہیں اور آیت"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی"کو منسوخ فرمایا اور محکم ہونے کی صورت میں اس کی بہت توجیہیں فرمائیں۔خدا شوق دے تو اس جگہ مرقاۃ اور کتاب"جاءالحق"حصہ اول اور "تفسیرنعیمی"پارہ سوم کا ضرور مطالعہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1717