Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1712

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ لَا مُشْرِفَةٍ وَلَا لَاطِئَةٍ مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن القاسم بن محمد قال: دخلت علی عائشة فقلت: يا أماه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه فكشفت لي عن ثلاثة قبور لا مشرفة ولا لاطئة مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا اورعرض کیا کہ والدہ ماجدہ مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی قبر کھول کر دکھایئے ۲؎ آپ نے میرے سامنے تین قبریں کھولیں جو نہ بہت اونچی تھیں نہ زمین کے برابر جن پر میدان کی سرخ بجری بچھی تھی ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صدیق اکبر کے پوتے ہیں یعنی محمد ابن ابوبکر صدیق کے بیٹے۔۲؎حجرہ شریف بند رہتا تھا جس میں مہر نبوت کے پہلو میں دو بدر منیر سورہے ہیں اسکی چابی حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس رہتی تھیں جسے زیارت کرنی ہوتی وہ آپ سے حجرہ کھلواکر زیارت کرتا تھا۔اس سے معلوم ہواکہ بزرگوں کی قبر پر مجاور کا رہنا، وہاں قبر کا انتظام کرنا،چابی اپنے پاس رکھنا سب سنت صحابہ ہیں،یہ حدیث بہت سے مسائل کا ماخذ ہے۔۳؎اس سےمعلوم ہو اکہ اول ہی سے آپ کی قبر شریف محض کچی نہیں بلکہ اس پر سرخ بجری بچھی ہوئی تھی تمام دیکھنے والوں نے سرخ بجری ہی کی روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1712