Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1700

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ. فَقَالُوا: أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَمَلَهٗ . فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنةِ

عن عروة بن الزبير قال: كان بالمدينة رجلان أحدهما يلحد والآخر لا يلحد. فقالوا: أيهما جاء أولا عمل عمله . فجاء الذي يلحد فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دوشخص تھے ایک بغلی کھودتا تھا دوسرا یہ نہیں ۱∞؎صحابہ نے کہا ان میں جو پہلے آئے وہ اپنا کام کرلے تو بغلی کھودنے والا ہی آیا جس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیئے بغلی قبر کھودی۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بغلی نہ کھودتے تھے بلکہ صندوق کھودنا جانتے تھے۔خیال رہے کہ لحد کھودنے والے حضرت زید ابن سہیل انصاری یعنی ابوطلحہ تھے اور صندوق کھودنے والے حضرت عبیدہ ابن جراح تھے۔مدینہ میں دو ہی بزرگ تھے جنہیں قبر کھودنا آتی تھی ان کا پیشہ گورکنی نہ تھی آج کل کی طرح،ہرمسلمان کو کفن سینا اور قبر کھودنا سیکھنا چاہیئے کہ نہ معلوم موت کہاں واقع ہو۔۲؎اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ صندوقی قبر منع نہیں ورنہ سیدنا ابوعبیدہ ابن جراح جیسے صحابی یہ نہ کھودا کرتے اور صحابہ کبار ان دونوں کو پیغام نہ بھیجتے۔خیال رہے کہ اگرچہ تمام صحابہ قبرکھودنا جانتے تھے مگر وہ دونوں حضرات بہت مشاق تھے انہوں نے چاہا کہ قبر انور بہت اعلیٰ درجے کی تیار ہو جو بہت تجربہ کار ہی کرسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1700