Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1718

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اِبْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ بَكْرٍ بِالْجُشٰی (مَوضِعٌ قَرِيْبٌ مِنْ مَكَّةَ) وَهُوَ مَوْضِعٌ فَحُمِلَ إِلٰى مَكَّةَ فَدُفِنَ بِهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ:وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتّٰى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ مَعًا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن أبي مليكة قال: لما توفي عبد الرحمن بن أبي بكر بالجشی (موضع قريب من مكة) وهو موضع فحمل إلى مكة فدفن بها فلما قدمت عائشة أتت قبر عبد الرحمن بن أبي بكر فقالت:وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت معا ثم قالت: والله لو حضرتك ما دفنت إلا حيث مت ولو شهدتك ما زرتك رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں جب عبد الرحمان ابن ابی بکر نے مقام جشی میں وفات پائی تو وہ مکہ لاکر دفن کیے گئے ۱∞؎جب حضرت عائشہ آئیں تو عبدالرحمان ابن ابی بکر کی قبر پر تشریف لے گئیں اور یہ شعر پڑھے ۲؎ہم تم دراز زمانہ تک جذیمہ کے وزیروں کی طرح رہےحتی کہ کہا گیا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے مگر جب بچھڑے تو میں اور مالک اتنا دراز ساتھ رہنے کے باوجودگویا ایک رات بھی ساتھ نہ رہے ۳؎پھر بولیں رب کی قسم اگر میں موجود ہوتی تو تم وہیں دفن کیے جاتے جہاں تم فوت ہوئے اور اگر میں اس وقت ہوتی تو اب تمہاری زیارت نہ کرتی ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں،سیدنا عبد الله ابن زبیر کے زمانہ میں قاضیٔ مکہ تھے اور حضرت عبدالرحمن عائشہ صدیقہ کے بھائی ہیں جن کا انتقال مقام جشی میں ہوا جو مکہ مکرمہ سے ایک منزل دور ہے مگر برکت کے لیے مکہ معظمہ لاکر دفن کئے گئے۔خیال رہے کہ عبدالرحمان حضرت عائشہ کے حقیقی بھائی ہیں جن کی ماں اُم رومان ہیں۔۲؎یعنی جب آپ حج کو مکہ معظمہ آئیں تو راستہ میں ان کی قبر پرنظر پڑی اتر گئیں اور زیارت قبر کی اورتمیم ابن نویرہ کے مرثیہ کے یہ دو شعر پڑھے جو اس نے اپنے بھائی مالک ابن نویرہ کے قتل ہونے کے بعد لکھے۔مالک عہدصدیقی میں حضرت خالد کے ہاتھوں مارا گیا کیونکہ اس نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی توہین کی تھی۔۳؎جزیمہ عراق کابادشاہ تھا اس کے دو وزیروں کی آپس کی محبت اور ہمیشہ ہمراہی عرب میں کہاوت بن چکی تھی،ان وزیروں کے نام مالک وعقیل تھے جو چالیس سال تک جزیمہ کے ساتھ رہے،انہیں نعمان نے قتل کیاجن کے قتل کا عجیب قصہ مقامات حریری کی شرح میں مذکور ہے۔حقبہدراز مدت کو کہتے ہیں جس کی حد نہ ہو،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحْقَابًا۴؎یعنی اگر میں تمہاری وفات کے وقت تمہارے ساتھ ہوتی تو نہ تمہاری میت کو یہاں آنے دیتی کیونکہ بلا وجہ میت کو منتقل کرنا ٹھیک نہیں۔اس کی بحث پہلے ہوچکی اور نہ اب میں تمہاری قبر کی زیارت کے لیئے اترتی کیونکہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے عورتوں کو زیارت قبور سے منع فرمایا۔ہم ابھی عرض کرچکے کہ آپ زیارت قبر کے لئے گئی نہ تھیں بلکہ قبر راستہ میں پڑی تھی تو اتر پڑی تھیں۔زیارت قبر کی پوری بحثاِنْ شَاءَاللّٰهُزیارت قبور کے باب میں آئے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1718