Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1713

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى القَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ بَعْدُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِي آخِرِهٖ: كَأَنَّ عَلیٰ رُؤُوْسِنَا الطَيْرَ

وعن البراء بن عازب قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر ولما يلحد بعد فجلس النبي صلى الله عليه وسلم مستقبل القبلة وجلسنا معه. رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وزاد في آخره: كأن علی رؤوسنا الطير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ پر گئے قبر پر پہنچے تو ابھی تیار نہ ہوئی تھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم روبقبلہ بیٹھے اور ہم آپ کے ساتھ بیٹھے۔(ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آخر میں یہ بڑھایا کہ گویا ہمارے سروں پر پربندے تھے ۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ دفن میت سے پہلےبیٹھناجائزہے قبلہ رو بیٹھنا ہی ضروری نہیں کیونکہ جواصحاب کے آپ کے آس پاس بیٹھے تھے وہ قبلہ رو نہ تھے،ہاں اس وقت دنیاوی باتیں کرنا یا کھیل کود میں مشغول ہونا برا ہے یا ذکر الله کریں یا خاموش رہ کر موت سے عبرت پکڑیں،اسی خاموشی کو ظاہرکرنے کے لیے فرمارہے ہیں گویا ہم پرندوں کے شکاری کی طرح خاموش اور بے حس و حرکت بیٹھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1713