Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1704

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهٗ فِي مَقَابِرِنَا فَنَادٰى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “رُدُّوا الْقَتْلَى الٰى مَضَاجِعِهِمْ “ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ وَلَفْظُهٗ لِلتِّرْمِذِي

وعن جابر قال: لما كان يوم أحد جاءت عمتي بأبي لتدفنه في مقابرنا فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم : “ردوا القتلى الى مضاجعهم “ . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي ولفظه للترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب احد کا دن ہوا تو میری پھوپھی میرے بآپ کو لائیں تاکہ انہیں اپنے قبرستان میں دفن کریں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اعلانچی نے اعلان کیا کہ شہداءکو ان کے قتل گاہ کی طرف واپس کرو ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)اور لفظ ترمذی کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا منع ہے نقل میت کا مسئلہ بڑے معرکہ کا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی یہ ممانعت صرف شہدائے احد کے لیئےتھی تاکہ تمام شہدا ایک جگہ رہیں،زائرین کو ان کی زیارت میں آسانی ہو اور وہ شہداءبھی اس میدان پاک کی برکت سے فائدہ حاصل کریں کیونکہ احدحضورصلی الله علیہ وسلم کا محبوب پہاڑہے اور محبوب کے پاس دفن ہونا بھی اچھا۔خیال رہے کہ حضرت جابر رضی الله تعالٰی عنہ نے چھ مہینہ کے بعد اپنے والد کی نعش مبارک وہاں سے منتقل کی اور جنت البقیع میں دفن کی یہ کام کسی ضرورت کی وجہ سے ہو اسی لیئے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس وقت منع نہ فرمایا۔نقل میت کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ بعد دفن قبر کھول کر نعش منتقل کرنا یا اتنی دور میت کو لے جانا کہ جہاں تک پہنچتے ہوئے میت کے بگڑ جانے کا خطرہ ہو ممنوع ہے لیکن اگر یہ وجوہ نہ ہو تو کسی فائدہ صحیحہ کے لیئے میت کو منتقل کرنا جائز ہے۔چنانچہ حضرت سعد ابن وقاص کا جنازہ ان کے محل سے جو مدینہ پاک سے دس میل تھا مدینہ لایا گیا،بعددفن میت کو نکالنا سخت منع ہے اسی لیئے بعض صحابہ کرام کفار کی زمین میں دفن ہوئے تو انہیں وہیں رکھا گیا حتی کہ اگر میت بلاغسل و نماز بھی دفن ہوگیا ہو تو اسے نہیں نکال سکتے۔یوسف علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام کے تابوتوں کو جومصر سے شام کی طرف منتقل کیا گیا یہ ان دینوں میں جائز تھا ہمارے ہاں ممنوع لہذا روافض جو امانت کرکے مردے کو دفن کرتے ہیں سخت ناجائز ہے۔قبر اکھیڑنے کی صرف ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ مردہ کسی غیر کی زمین میں بغیر مالک کی اجازت دفن کردیا گیا ہو تو مالک مردے کو نکلوا کر اپنی زمین خالی کراسکتا ہے۔وہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ جب میت گل جائے تو قبر پر کھیتی باڑی بھی کرسکتے ہیں،اس سے یہی مراد ہے ورنہ قبر وقف ہوتی ہے اس پر کھیتی کیسی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1704