Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1698

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَجْلِسُوا عَلَی القُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي مرثد الغنوي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا إليها” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مرثدغنوی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ قبرنمازی کے سامنے بغیر آڑ ہو یہ حرام ہے اور اگر قبر دائیں بائیں یا پیچھے ہو یا سامنے ہی ہو مگر نمازی اور اس کے درمیان دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو بلاکراہت نماز جائز ہے،بزرگوں کے مزار کے پاس برکت کے لیئے مسجدیں بنانا اور ان مسجدوں میں برکت کے لیئے نمازیں پڑھنا سنت انبیاء و سنت صحابہ ہے۔چنانچہ رب تعالٰی اصحاب کہف کے بارے میں فرماتا ہے:"لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا"یعنی مسلمانوں نےمشورہ کیا کہ ہم ان کے غار پرمسجد بنائیں گے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور کے اردگرد مسجد نبوی واقع ہے جہاں سجدے کرنے کی ہرمومن کو تمنا ہے،یونہی ہر بزرگ کے مزار کے پاس مسجدیں بنی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1698