Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 323

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهٖ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيْمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ عَائِشَةَ.

وعن عائشة قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم يقبل بعض أزواجه ثم يصلي ولا يتوضأ. رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه. وقال الترمذي: لا يصح عند أصحابنا بحال إسناد عروة عن عائشة، وأيضا إسناد إبراهيم التيمي عنها. وقال أبو داود: هذا مرسل وإبراهيم التيمي لم يسمع عن عائشة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لیتےپھر نماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے ۱؎اسے ابوداؤد،ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں کے نزدیک کسی حالت میں بھی عروہ کی حضرت عائشہ سے اسناد صحیح نہیں ۲؎نیز ابراہیم تیمی کی اسناد انہی حضرت عائشہ سے ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے نہ سنا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی قوی دلیل ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم،بخاری،نسائی وغیرہ میں ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور آپ تہجد پڑھنے میں مشغول ہوتے تھے،جب وہ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ لگادیتے میں پاؤں سمیٹ لیتی،آپ سجدہ کرلیتے سجدہ کے بعد پھر میں پاؤں پھیلالیتی۔(مسلم،بخاری)نیز فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا میں ٹٹولنے لگی میرا ہاتھ آپ کے قدم شریف سے لگا جو کھڑا ہوا تھا اور آپ سجدہ میں تھے۔(نسائی)نیز فرماتی ہیں کہ ایک بارآپ نے لمبا سجدہ فرمایا میں سمجھی کہ آپ کی وفات ہوگئی،میں نے آپ کے پاؤں کا انگوٹھا پکڑ کر ہلایا۔(بیہقی)ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت کا چھونا وضو نہیں توڑتا۔
۲
؎کیونکہ اس اسناد میں حبیب ابن ثابت حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے راوی ہیں،عروہ کی سماعت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے ثابت ہے بلکہ وہ ان کے شاگرد ہیں،مگر حبیب کی سماعت عروہ سے صحیح نہیں لہذا حدیث مرسل ہے۔ترمذی نےاَصْحَابِنَااس واسطے فرمایا کہ مرسل حدیث شوافع کے مذہب میں دلیل نہیں۔مگر احناف کے نزدیک دلیل ہے۔
۳
؎خلاصۂ اعتراض یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت عائشہ سے دو اسنادوں سے مروی ہے۔عُرْوَہْ عَنْ عَائِشَہْاوراِبْرَاھِیْمْ اَلْتَیْمِیْ عَنْ عَائِشَہَاور دونوں مرسل کیونکہ ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ صدیقہ سے نہ سنا،مگر یہ اعتراض امام صاحب پر نہیں پڑ سکتا،کیونکہ ان کے ہاں حدیث مرسل قابل حجت ہے،شوافع اپنے اصول سے ہم پر اعتراضات کیسے کرسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 323