Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 320

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهٗ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأْ. قَالَ: "وَهَلْ هُوَ إِلَّا بِضْعَةٌ مِنْهُ؟ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ وَقَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ: هَذَا مَنْسُوْخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قُدُوْمِ طَلْقٍ.

وعن طلق بن علي قال: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم عن مس الرجل ذكره بعد ما يتوضأ. قال: "وهل هو إلا بضعة منه؟ ". رواه أبو داود والترمذي والنسائي، وروى ابن ماجه نحوه وقال الشيخ الإمام محيي السنة: هذا منسوخ لأن أبا هريرة أسلم بعد قدوم طلق.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو وضو کے بعد عضو خاص کو چھوئے فرمایا وہ بھی تو جسم انسانی کا ہی حصہ ہے ۱؎ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کیا اور شیخ اماممحی السنۃنے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہے

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے ناک،انگلی وغیرہ جسم کے اعضاء ہیں کہ ان کے چھونے سے وضو نہیں جاتا،ایسے ہی یہ بھی ایک عضو ہے کہ اس کا چھونا وضو نہیں توڑے گا۔یہ حدیث ہمارے امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ اس عضو کے چھونے سے وضو نہیں جاتا۔حضرت علی المرتضی،حضرت ابن عباس،عمارابن یا سر،حذیفہ،سعد،عبداللہابن مسعود وغیرہم بہت صحابہ کا یہی مذہب ہے۔چنانچہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ناک،کان چھوؤں یا یہ عضو،برابرہی ہے۔حضرت سعد سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر نجس ہے تو اسے کاٹ ڈالو۔اس کی پوری بحث طحاوی شریف اورصحیح البہاری وغیرہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 320