Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 306

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهٖ شَيْئًا فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيْحًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا، فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے کہ کچھ نکلایانہیں تو مسجد سے نہ جائے،تاآنکہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگرکوئی شخص مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ ہوئی لیکن بو محسوس نہ ہوئی،ہوا کے نکلنے کا یقین نہ ہوا،یونہی شبہ ساہوگیاتوشبہ کا اعتبار نہ کرے،وہ باوضو ہے،نماز پڑھے جائے۔آواز سننے سے مراد ہے نکلنے کا یقین۔اس سےمعلوم ہوا کہ یقینی وضو مشکوک حدث سے نہیں جاتا،ہمیں یقین ہے کہ ظہر کے وقت ہم نے وضو کیا تھا مگر ٹوٹنے کا صرف شبہ ہے یقین نہیں تو ہمارا وضو باقی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 306