Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 308

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الصَّلَوَاتِ يَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلٰى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهٗ، فَقَالَ: "عَمْدًا صَنَعْتُهٗ يَا عُمَرُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن بريدة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم - صلى الصلوات يوم الفتح بوضوء واحد ومسح على خفيه، فقال له عمر: لقد صنعت اليوم شيئا لم تكن تصنعه، فقال: "عمدا صنعته يا عمر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے چند نمازیں پڑھیں اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۲؎تو حضرت عمر نے عرض کیا کہ آج حضور نے وہ کام کیا جو کرتے نہ تھے فرمایا اے عمر ہم نے قصدًا کیا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بریدہ ابن ابی حُصَیب اسلمی ہیں،بدر سے پہلے اسلام لائے،بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے،پہلے مدینہ طیبہ پھر بصرہ میں قیام رہا،پھر خراسان میں غازی ہوکرگئے،مقام مرو میں ۷۲ھمیں وفات پائی۔
۲
؎فتح مکہ کے دن ایک وضو سے پانچ نمازیں پڑھیں،اور وضو میں چمڑے کے موزوں پر مسح بھی فرمایا،اس سے پہلے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے،اورپاؤں شریف دھوتے تھے اسی لیئے عمر فاروق کو تعجب ہوا۔
۳
؎تاکہ اپنے عمل شریف سے امت کو دو مسئلے بتادیں۔ایک یہ کہ ایک وضوسے چند نمازیں جائز ہیں۔دوسرے یہ کہ موزوں پر مسح سنت ہے،اگرچہ ہرنماز کے لئے تازہ وضو بہتر ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غیرمستحب کام کرنا بھی باعث ثواب ہے کہ اس میں تبلیغ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 308