Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 330

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ وَجَسُّهَا بِيَدِهٖ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهٗ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهٖ فَعَلَيهِ الْوُضُوْءُ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ.

وعن ابن عمر كان يقول: قبلة الرجل امرأته وجسها بيده من الملامسة. ومن قبل امرأته أو جسها بيده فعليه الوضوء. رواه مالك والشافعي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے تھے کہ مرد کو اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامست ہے،جو اپنی بیوی کو چومے یا اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے ۱؎(مالک وشافعی)

شرح حدیث

۱∞؎سورۂ نساءاورسورۂ مائدہ میں آیت کریمہ ہے:"أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا"یعنی اگر کوئی تم میں سے پاخانے سے آئے یا تم عورتوں کو چھوؤ اور نہ پاؤ پانی،تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔امام شافعی کے نزدیک یہاںلمسکے معنی فقط عورت کو ہاتھ لگانا ہیں کہ اس سے ان کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ہمارے ہاںلمسسے مراد صحبت کرناہے جس سے غسل واجب ہوتا ہے۔اورہوسکتا ہے کہ مباشرت مراد ہو،یعنی ننگا چپٹنا جس سے وضو واجب ہوتا ہے۔حضرت ابن عمر چھونے اور بوسہ کولمسفرما رہے ہیں۔لہذا یہ حدیث امام شافعی رحمۃاللہعلیہ کی دلیل ہے۔اس کا جواباِنْ شَاءَاللهہم ابھی آگے دے رہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 330