Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 329

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيٌّ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوْسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوْءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أنس بن مالك قال: كنت أنا وأبي وأبو طلحة جلوسا فأكلنا لحما وخبزا ثم دعوت بوضوء، فقالا: لم تتوضأ؟ فقلت: لهذا الطعام الذي أكلنا، فقالا: أتتوضأ من الطيبات لم يتوضأ منه من هو خير منك. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس بن مالک سے فرماتے ہیں کہ میں اوراُبی اور ابوطلحہ ۱؎بیٹھے ہوئے تھے ہم نے گوشت و روٹی کھائی پھر میں نے وضو کا پانی منگایا۲؎تو ان دونوں نے فرمایا کہ کیوں وضو کرتے ہو،میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایاوہ بولے کیا تم حلال چیزوں سے وضو کرتے ہو؟۳؎اس سے تو انہوں نے بھی وضو نہ کیا جو تم سے بہتر ہیں۔(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام زیدابن سہل ہے،کنیت ابوطلحہ،انصاری ہیں،نجاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،۷۷ سال عمر پائی، ۳۱ھمیں سمندر کا سفرکیا،جزیرہ میں وفات ہوئی،نو دن کے بعد وہیں دفن ہوئے،بیعت عقبہ اوربدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل رہے۔
۲
؎کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وضوءطعام کی حدیث میں وضوء کے شرعی معنی سمجھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ محدث بغیر فقیہ کی رائے کے حدیث پر عمل نہ کرے اسی لیے امام ترمذی وغیرہم مقلد ہوئے۔
۳
؎یعنی وضوء پاکی ہے کسی ناپاک چیز سے ہوناچاہیئے اورکھانا حرام ہے نہ نجس پھروضو کیسا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عورت کو چھونے سےبھی وضو نہیں جائے گا کہ وہ بھی نہ حرام ہے نہ نجس۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 329