Main Icon

باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 312

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ،وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيْرُ، وَتَحْلِيْلُهَا التَّسْلِيْمُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مفتاح الصلاة الطهور،وتحريمها التكبير، وتحليلها التسليم". رواه أبو داود والترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز کی کنجی طہارت ہے ۱؎اور اس کا احرام تکبیر اور اس سے کھلنا سلام ہے ۲؎اسے ابوداؤد،ترمذی اوردارمی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

؎کہ جیسے بغیرکنجی قفل نہیں کھلتا،ایسے ہی وضو،غسل یا تیمم کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔یہ حدیث امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ جو وضو اورتیمم نہ کرسکے وہ نماز نہ پڑھے۔
۲
؎یعنی حج کا احرام تلبیہ سے بندھتا ہے کہ تلبیہ کہتے ہی حاجی پر صدہا چیزیں حرام ہوجاتی ہیں،ایسے ہی نماز کا احرام تکبیر سے بندھتاہے کہ تکبیر کہتے ہی کلام،سلام،کھانا،پینا سب حرام۔نیز جیسے حج کے احرام سے کھلنا سر منڈانے سے ہوتا ہے،ایسے ہی نماز کا احرام سے کھلناسلام سے ہوتا ہے کہ سلام پھیرتے ہی مذکورہ بالاتمام چیزیں حلال۔خیال رہے کہ تکبیرتحریمہ سب کے نزدیک فرض ہے مگر سلام امام شافعی و مالک واحمدرحمۃاللہعلیہم کے نزدیک فرض،اور ہمارے امام صاحب کے یہاں واجب ہے۔ان بزرگوں کی دلیل یہی حدیث ہے۔امام اعظم رحمۃاللہعلیہ کی دلیل ان اعرابی کی دلیل ہے جنہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تعلیم دی اس میں سلام کا ذکر نہیں۔اگر فرض ہوتا تو ضرور ذکر فرمایا جاتا،اس حدیث کی بنا پر ہم سلام کی فرضیت کا انکار کرتے ہیں،اس حدیث کی بنا پرسلام کے وجوب کے قائل،ہمارا عمل دونوں حدیثوں پر ہے۔تکبیروسلام کے پورے مسائل کتب فقہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 312