Main Icon

باب:صحبت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3184

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعنهُ قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا.

وعنه قال: كنا نعزل والقرآن ينزل. متفق عليه.وزاد مسلم: فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينهنا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتررہا تھا۔(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو ہم کو منع نہ فرمایا ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎عزلکے معنی ہیں علیحدگی اصطلاح میں عزل کے معنی ہیں انزال کے وقت عورت سے علیحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے بلااجازت مکروہ یہ ہی عام علماء و عام صحابہ کا مذہب ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3184