Main Icon

باب:صحبت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3195

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في الدبر". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی اسے نظر رحمت سے نہ دیکھے گا جو لڑکے کے پاس یا عورت کے پاس دبر میں جائے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرمان یا خبرهے یا بددعا یعنی جو لڑکے یا کسی عورت سے اپنی ہو یا غیر دبر میں صحبت کرے اللہ تعالٰی اسے قیامت میں نظر رحمت سے نہ دیکھے یا نہ دیکھے گا اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کی بھی قید نہ ہو دنیا و آخرت میں ایسے لوگ رب تعالٰی کی رحمت سے محروم ہوں کہ انہیں نہ دنیا میں توفیق خیر ہے نہ آخرت میں قبولیت۔خیال رہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں ان سے حرمت قطعیہ ثابت نہیں ہوسکتی، اسی لیے فقہاء اور علماء اصول نے اس فعل کی قطعی حرمت قیاس قطعی سے ثابت کی ہے انہوں نے وطی بحالت حیض پر قیاس فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3195