Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4043

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ:عَلٰى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهٗ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوْهُ، وَعَلٰى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ وَالسَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهٖ، فَجَاءَہ أَبُوْ جَنْدَلٍ يَحْجُلُ فِي قُيُوْدِهٖ فَرَدَّهٗ إِلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن البراء بن عازب قال: صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة أشياء:على أن من أتاه من المشركين رده إليهم، ومن أتاهم من المسلمين لم يردوه، وعلى أن يدخلها من قابل ويقيم بها ثلاثة أيام، ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح والسيف والقوس ونحوه، فجاءہ أبو جندل يحجل في قيوده فرده إليهم. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پر صلح فرمائی ۱؎اس چیز پر کہ آپ کے پاس کفار میں سے جو آوے اسے ان کی طرف لوٹا دیں۲؎اور مسلمانوں میں سے جو کوئی ان کے پاس پہنچے اسے وہ نہ لوٹائیں اور اس پر کہ سال آئندہ آپ مکہ آئیں۳؎اور وہاں تین دن قیام کریں اور وہاں نہ آویں مگر ہتھیار تلوار کمان وغیرہ ڈھکے ہوئے ۴؎تو آپ کے پاس ابوجندل اپنی قیدیوں میں گھستے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں کفار کی طرف واپس کردیا ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تقریبی تین شرطیں مراد ہیں ورنہ ان کے علاوہ اور شرطیں بھی تھیں مثلًا یہ کہ دس سال تک ہماری آپ کی جنگ نہ ہوگی اور یہ کہ اگر ہمارے آپ کے حلیف آپس میں لڑیں تو آپ اور ہم غیر جانبدار رہیں کہ نہ تو آپ اپنے حلیف کی مدد کریں نہ ہم اپنے حلیف کی مدد کریں۔
۲
؎یہ شرط مسلمانوں کی کمزوری کی بنا پر قبول نہ کی گئی تھی بلکہ حرم شریف کے احترام کے طور پر ورنہ مسلمان اس وقت بفضلہ تعالٰی بہت طاقتور تھے،چاہتے یہ تھے کہ حرم کی زمین میں خونریزی نہ ہو ورنہ اب مسلمان بادشاہ یہ شرط قبول نہ کرے گا۔(مرقات)
۳
؎یہ شرط اس لیے لگائی تھی کہ وہ اس سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے عمرہ کرلینے میں اپنی توہین سمجھتے تھے کہ لوگ کہیں گے کفار مکہ دب گئے اور مسلمانوں کو عمرہ کی اجات دے دی۔
۴
؎کیونکہ اس زمانہ میں بندتلوار صلح کی علامت تھی اورننگی تلوار جنگ کی پہچان تھی اس لیے ان لوگوں نے یہ قید لگائی۔
۵
؎اگرچہ ابوجندل کی آمد صلح نامہ کی تحریر کے دوران میں تھی اور صلح نامہ کا اجراءتکمیل کے بعد ہوتا ہے مگر سہیل نے ضد کی کہ اگر آپ اسے واپس نہ کرتے تو میں صلح نہیں کرتا اس کی ضد کی بنا پر انہیں واپس کیا گیا جیساکہ بخاری شریف وغیرہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4043