- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 4049
باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4049
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوْهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ، حتّٰى قَاضَاهُمْ عَلٰى أَنْ يَدْخُلَ -يَعْنِي مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ- يُقِيمُ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ، كَتَبُوْا: هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ. قَالُوْا: لَا نُقِرُّ بِهَا، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا مَنَعْنَاكَ، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "أَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ". ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "امْحُ: رَسُوْلَ اللّٰهِ" قَالَ: لَا وَاللّٰهِ لَا أَمْحُوْكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ: "هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهٗ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهٖ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا"، فَلَمَّا دَخَلَهَا، وَمَضَى الأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن البراء بن عازب قال: اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة، فأبى أهل مكة أن يدعوه يدخل مكة، حتى قاضاهم على أن يدخل -يعني من العام المقبل- يقيم بها ثلاثة أيام، فلما كتبوا الكتاب، كتبوا: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله. قالوا: لا نقر بها، فلو نعلم أنك رسول الله ما منعناك، ولكن أنت محمد بن عبد الله، فقال: "أنا رسول الله وأنا محمد بن عبد الله". ثم قال لعلي بن أبي طالب: "امح: رسول الله" قال: لا والله لا أمحوك أبدا، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يحسن يكتب فكتب: "هذا ما قاضى عليه محمد بن عبد الله: لا يدخل مكة بالسلاح إلا السيف في القراب، وأن لا يخرج من أهلها بأحد إن أراد أن يتبعه، وأن لا يمنع من أصحابه أحدا إن أراد أن يقيم بها"، فلما دخلها، ومضى الأجل، أتوا عليا فقالوا: قل لصاحبك: اخرج عنا فقد مضى الأجل، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا ۱؎تو مکہ والوں نے مکہ میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکارکردیا حتی کہ ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ اگلے سال تشریف لائیں مکہ میں تین دن قیام فرمائیں۲؎تو جب انہوں نے تحریر لکھی تو لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ فرمایا وہ بولے ہم اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپﷲکے رسول ہیں تو آپ کو نہ روکتے لیکن آپ محمد ابن عبداللہ ہیں ۳؎تو فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد ابن عبدﷲبھی ہوں۴؎پھر علی ابن ابی طالب سے فرمایا لفظ رسول اللہ کو محو کردو ۵؎وہ بولےﷲکی قسم میں کبھی آپ کو محو نہ کروں گا ۶؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا حالانکہ آپ اچھی طرح لکھتے نہ تھے پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد ابن عبداللہ نے صلح فرمائی ۷؎کہ مکہ میں داخل نہ ہوں گے ہتھیاروں کے ساتھ سوا تلوار کے وہ بھی میان میں ۸؎اور یہ کہ مکہ کے باشندوں میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے اسے نہ لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے صحابہ میں سے نہ روکیں گے اگر وہ مکہ میں رہنا چاہے ۹؎پھر جب حضور مکہ میں تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو مکہ والے علی کے پاس آئے بولے اپنے ایمان کے ساتھی سے عرض کرو ۱۰؎کہ ہمارے پاس سے تشریف لے جاویں کہ معیاد گزر چکی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے ۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی عمرہ کا ارادہ فرمایا،احرام باندھ لیا،یہ واقعہ ۶ھ ∞ دوشنبہ کو ہوا۔(مرقات)
۲؎یہ واقعہ پہلے بیان ہوچکا۔
۳؎یعنی آپ اس صلح نامہ میں اپنے نام شریف کے ساتھ رسول اللہ تحریر نہ کریں بلکہ ابن عبدﷲلکھوائیں کیونکہ آپ کو رسول اللہ نہ مانتے تھے نہ مانتے ہیں،آج یہ لفظ سہیل ابن عمرو کے منہ سے نکل رہے ہیں عنقریب یہ ہی سہیل کلمہ شہادت پڑھیں گے مسلمان بنیں گے،یہ ہے تیرے رب کی بے نیازی۔
۴؎یعنی یہ دونوں لفظ حق ہیں ہم میں دونوں صفات موجود ہیں جو چاہو لکھ لو ہم کو اس پر اعتراض نہیںسبحان الله!یہ ہے تحمل ہمارے نبی کا صلی اللہ علیہ وسلم۔مقصد یہ تھا کہ جنگ نہ ہو تاکہ حرم شریف اور بیت اللہ میں خونریزی نہ ہو صلح ہوجائے۔
۵؎اور اس کی جگہ لکھ دو ابن عبداللہ جیساکہ سہیل کا اصرار ہے۔
۶؎یعنی علی کے ہاتھ سے لفظ رسول اللہ پر قلم نہ چلے گا،یہ حکم سے سرتابی نہیں بلکہ انتہائی جوش ایمانی اور جذبہ عشق رسول اللہ ہے محبت و اخلاص کی حد ہوگئی۔آپ جانتے تھے کہ یہ حکم وجوب شرعی کے لیے نہیں ہے۔ بہرحال جناب علی مرتضٰی کا یہ عمل قابل صد ستائش ہے۔
۷؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو کسی سے لکھنا سیکھا نہ خود کبھی لکھنے کی مشق کی نہ اس سے پہلے کبھی کچھ لکھا تھا،آج اچانک اپنے دست اقدس سے پوری عبارت تحریر فرمائی۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس آیت قرآنیہ کے خلاف نہیں "وَمَاکُنۡتَ تَتْلُوۡا مِنۡ قَبْلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ" کیونکہ آیت کریمہ میں ظہور نبوت سے پہلے کتاب پڑھنے کی اور لکھنے کی نفی ہے اور یہاں اس موقعہ پر لکھنے کا ثبوت ہے۔یہ موقعہ ظہور نبوت سے برسوں کے بعد ہے اور یہ لکھنا بھی حضور انور کا معجزہ ہے یا یوں کہو کہ آیۃ کریمہ میں لکھنے کی عادت کی نفی ہے اور یہاں ایک بار لکھنے کا ثبوت جیسے قرآن مجید فرماتاہے:"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ" ہم نے اپنے محبوب کو شعر گوئی نہ سکھائی اور احادیث سے ثابت ہے کہ کئی دفعہ حضور انور کے منہ شریف سے شعر صادر ہوئے جیسےھل انت الااصبع رمیتاور جیسےکل امرئی مصبح فی اھلہوغیرہ کہ آیت کریمہ سے شعر گوئی کی عادت کی نفی ہے اور حدیث شریف میں دو چار شعر صادر ہونے کا ثبوت ہے۔
۶؎یعنی ہم سال آئندہ عمرہ کرنے اس ماہ ذیقعدہ میں آئیں گے تیر کمان وغیرہ سامان جنگ ساتھ نہ لائیں گے صرف تلوار ساتھ لائیں گے وہ بھی میان میں بند۔
۹؎اس کی شرح پہلے گزر چکی یہاں صرف تین شرطوں کا ذکر ہے مگر شرائط ان کے علاوہ اور بھی تھیں جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ جو مکہ معظمہ کا کافر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ رہنا چاہے آپ اسے نہ رکھیں اور جو مدینہ منورہ کا مسلمان مر تد ہو کر مکہ معظمہ رہنا چاہے تو آپ اسے نہ روکیں حضور انور نے یہ شرط منظور فرمالی۔
۱۰؎صاحبكکا یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے۔ساتھی بہت قسم کے ہوتے ہیں:وطن کے ساتھی،پیشہ کے ساتھی،گھر کے ساتھی،باہر کے ساتھی،دل کے ساتھی،جان کے ساتھی،ایمان کے ساتھی،یہاں ایمان کے ساتھی مراد ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہم سب کے ایمان کے ساتھی ہیں صلی اللہ علیہ و سلم۔
۱۱؎چنانچہ جب حضور روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ کی دختر حضور انور کے ساتھ آگئیں جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4049