Main Icon

باب:صلح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4049

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوْهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ، حتّٰى قَاضَاهُمْ عَلٰى أَنْ يَدْخُلَ -يَعْنِي مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ- يُقِيمُ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ، كَتَبُوْا: هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ. قَالُوْا: لَا نُقِرُّ بِهَا، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا مَنَعْنَاكَ، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "أَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ". ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "امْحُ: رَسُوْلَ اللّٰهِ" قَالَ: لَا وَاللّٰهِ لَا أَمْحُوْكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ: "هٰذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهٗ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهٖ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا"، فَلَمَّا دَخَلَهَا، وَمَضَى الأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن البراء بن عازب قال: اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة، فأبى أهل مكة أن يدعوه يدخل مكة، حتى قاضاهم على أن يدخل -يعني من العام المقبل- يقيم بها ثلاثة أيام، فلما كتبوا الكتاب، كتبوا: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله. قالوا: لا نقر بها، فلو نعلم أنك رسول الله ما منعناك، ولكن أنت محمد بن عبد الله، فقال: "أنا رسول الله وأنا محمد بن عبد الله". ثم قال لعلي بن أبي طالب: "امح: رسول الله" قال: لا والله لا أمحوك أبدا، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس يحسن يكتب فكتب: "هذا ما قاضى عليه محمد بن عبد الله: لا يدخل مكة بالسلاح إلا السيف في القراب، وأن لا يخرج من أهلها بأحد إن أراد أن يتبعه، وأن لا يمنع من أصحابه أحدا إن أراد أن يقيم بها"، فلما دخلها، ومضى الأجل، أتوا عليا فقالوا: قل لصاحبك: اخرج عنا فقد مضى الأجل، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا ۱؎تو مکہ والوں نے مکہ میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکارکردیا حتی کہ ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ اگلے سال تشریف لائیں مکہ میں تین دن قیام فرمائیں۲؎تو جب انہوں نے تحریر لکھی تو لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ فرمایا وہ بولے ہم اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپکے رسول ہیں تو آپ کو نہ روکتے لیکن آپ محمد ابن عبداللہ ہیں ۳؎تو فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد ابن عبدبھی ہوں۴؎پھر علی ابن ابی طالب سے فرمایا لفظ رسول اللہ کو محو کردو ۵؎وہ بولےکی قسم میں کبھی آپ کو محو نہ کروں گا ۶؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا حالانکہ آپ اچھی طرح لکھتے نہ تھے پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد ابن عبداللہ نے صلح فرمائی ۷؎کہ مکہ میں داخل نہ ہوں گے ہتھیاروں کے ساتھ سوا تلوار کے وہ بھی میان میں ۸؎اور یہ کہ مکہ کے باشندوں میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے اسے نہ لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے صحابہ میں سے نہ روکیں گے اگر وہ مکہ میں رہنا چاہے ۹؎پھر جب حضور مکہ میں تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو مکہ والے علی کے پاس آئے بولے اپنے ایمان کے ساتھی سے عرض کرو ۱۰؎کہ ہمارے پاس سے تشریف لے جاویں کہ معیاد گزر چکی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے ۱۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عمرہ کا ارادہ فرمایا،احرام باندھ لیا،یہ واقعہ ۶ھ؁ ∞ دوشنبہ کو ہوا۔(مرقات)
۲
؎یہ واقعہ پہلے بیان ہوچکا۔
۳
؎یعنی آپ اس صلح نامہ میں اپنے نام شریف کے ساتھ رسول اللہ تحریر نہ کریں بلکہ ابن عبدلکھوائیں کیونکہ آپ کو رسول اللہ نہ مانتے تھے نہ مانتے ہیں،آج یہ لفظ سہیل ابن عمرو کے منہ سے نکل رہے ہیں عنقریب یہ ہی سہیل کلمہ شہادت پڑھیں گے مسلمان بنیں گے،یہ ہے تیرے رب کی بے نیازی۔
۴
؎یعنی یہ دونوں لفظ حق ہیں ہم میں دونوں صفات موجود ہیں جو چاہو لکھ لو ہم کو اس پر اعتراض نہیںسبحان الله!یہ ہے تحمل ہمارے نبی کا صلی اللہ علیہ وسلم۔مقصد یہ تھا کہ جنگ نہ ہو تاکہ حرم شریف اور بیت اللہ میں خونریزی نہ ہو صلح ہوجائے۔
۵
؎اور اس کی جگہ لکھ دو ابن عبداللہ جیساکہ سہیل کا اصرار ہے۔
۶
؎یعنی علی کے ہاتھ سے لفظ رسول اللہ پر قلم نہ چلے گا،یہ حکم سے سرتابی نہیں بلکہ انتہائی جوش ایمانی اور جذبہ عشق رسول اللہ ہے محبت و اخلاص کی حد ہوگئی۔آپ جانتے تھے کہ یہ حکم وجوب شرعی کے لیے نہیں ہے۔ بہرحال جناب علی مرتضٰی کا یہ عمل قابل صد ستائش ہے۔
۷
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو کسی سے لکھنا سیکھا نہ خود کبھی لکھنے کی مشق کی نہ اس سے پہلے کبھی کچھ لکھا تھا،آج اچانک اپنے دست اقدس سے پوری عبارت تحریر فرمائی۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس آیت قرآنیہ کے خلاف نہیں "وَمَاکُنۡتَ تَتْلُوۡا مِنۡ قَبْلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ" کیونکہ آیت کریمہ میں ظہور نبوت سے پہلے کتاب پڑھنے کی اور لکھنے کی نفی ہے اور یہاں اس موقعہ پر لکھنے کا ثبوت ہے۔یہ موقعہ ظہور نبوت سے برسوں کے بعد ہے اور یہ لکھنا بھی حضور انور کا معجزہ ہے یا یوں کہو کہ آیۃ کریمہ میں لکھنے کی عادت کی نفی ہے اور یہاں ایک بار لکھنے کا ثبوت جیسے قرآن مجید فرماتاہے:"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ" ہم نے اپنے محبوب کو شعر گوئی نہ سکھائی اور احادیث سے ثابت ہے کہ کئی دفعہ حضور انور کے منہ شریف سے شعر صادر ہوئے جیسےھل انت الااصبع رمیتاور جیسےکل امرئی مصبح فی اھلہوغیرہ کہ آیت کریمہ سے شعر گوئی کی عادت کی نفی ہے اور حدیث شریف میں دو چار شعر صادر ہونے کا ثبوت ہے۔
۶
؎یعنی ہم سال آئندہ عمرہ کرنے اس ماہ ذیقعدہ میں آئیں گے تیر کمان وغیرہ سامان جنگ ساتھ نہ لائیں گے صرف تلوار ساتھ لائیں گے وہ بھی میان میں بند۔
۹
؎اس کی شرح پہلے گزر چکی یہاں صرف تین شرطوں کا ذکر ہے مگر شرائط ان کے علاوہ اور بھی تھیں جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ جو مکہ معظمہ کا کافر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ رہنا چاہے آپ اسے نہ رکھیں اور جو مدینہ منورہ کا مسلمان مر تد ہو کر مکہ معظمہ رہنا چاہے تو آپ اسے نہ روکیں حضور انور نے یہ شرط منظور فرمالی۔
۱۰
؎صاحبكکا یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے۔ساتھی بہت قسم کے ہوتے ہیں:وطن کے ساتھی،پیشہ کے ساتھی،گھر کے ساتھی،باہر کے ساتھی،دل کے ساتھی،جان کے ساتھی،ایمان کے ساتھی،یہاں ایمان کے ساتھی مراد ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہم سب کے ایمان کے ساتھی ہیں صلی اللہ علیہ و سلم۔
۱۱
؎چنانچہ جب حضور روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ کی دختر حضور انور کے ساتھ آگئیں جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4049