Main Icon

باب:جزیہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4041

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلٰى أَهْلِ الذَّهَبِ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَعَلٰى أَهْلِ الوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، مَعَ ذٰلِكَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

عن أسلم: أن عمر بن الخطاب ضرب الجزية على أهل الذهب أربعة دنانير، وعلى أهل الورق أربعين درهما، مع ذلك أرزاق المسلمين وضيافة ثلاثة أيام. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے اسلم سے ۱؎کہ حضرت عمر ابن خطاب نے سونے والوں پر جزیہ چار اشرفیاں مقرر فرمائیں۲؎اور چاندی والوں پر چالیس درہم اس کے ساتھ مسلمانوں کا کھانا یعنی تین دن کی مہمانی۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱؎آپ کا نام اسلم ہے،کنیت ابو خالد ہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں،حبشی تھے،حضرت عمر نے آپ کو ۱۱ھ؁ ∞ میں خریدا،بڑے متقی تابعی ہیں،مروان کی حکومت میں وفات پائی،ایک سو چودہ سال عمر ہوئی۔
۲
؎سونے والوں سے مراد یا تو سونے کے تاجر ہیں یا وہ لوگ جن کو سونا دینا آسان ہو ان پر سالانہ چار اشرفیاں اور ششماہی دو اشرفیاں لازم ہیں۔
۳
؎تین دن کی مہمانی تفسیر ہے مسلمانوں کے کھانے کی یعنی ان پر مذکورہ جزیہ بھی مقرر ہوا اور یہ بھی کہ جب اسلامی لشکر یا اور کوئی مسلمان انکی بستی سے گزریں تو انہیں تین دن دعوت دیں،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کی شرح ہے کہ اگر تم کو مہمانی نہ دیں تو جبرًا لے لو۔
خاتمہ: جزیہ کے متعلق چند امور خیال میں رہیں۔ایک یہ کہ عجمی کفار پر جزیہ ہے خواہ مشرکین ہوں یا اہل کتاب یا مجوس۔دوسرے یہ کہ مشرکین عرب سے جزیہ نہیں لیا جائے گا وہاں کے اہل کتاب سے جزیہ ہوگا ،مشرکین عرب کے لیےیا اسلام یا قتل مگر شوافع کے ہاں صرف اہل کتاب و مجوس سے جزیہ لیا جائے گا،مشرکین سے مطلقًا نہ لیا جائے گا۔تیسرے یہ کہ مرتد مرد سے جزیہ نہ لیا جائے گا،اس کے لیے یا قتل ہے یا اسلام۔رب فرماتاہے:"
تُقٰتِلُوۡنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوۡنَ"۔چوتھے یہ کہ مرتدین کی بیوی بچے جو مرتد ہوجائیں قتل نہ کیے جائیں گے غلام بنالیے جائیں گے۔چنانچہ حضرت صدیق اکبر نے مسیلمہ کذاب کو نبی ماننے والے بنی حنیفہ پر جہاد کیا ان کی عورتیں بچے غلام لونڈی بنائے۔چنانچہ خولہ بنت جعفر حنفِیہ حضرت علی کو دی گئیں جن سے محمد ابن حنفِیہ پیدا ہوئے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4041