Main Icon

باب:جزیہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4036

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهٗ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهٗ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَاِلمٍ -يَعْنِيْ مُحتَلِمٍ- دِينَارًا أَوْ عِدْلَهٗ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ: ثِيَابٌ تَكُوْنُ بِالْيَمَنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن معاذ: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما وجهه إلى اليمن أمره أن يأخذ من كل حالم -يعني محتلم- دينارا أو عدله من المعافري: ثياب تكون باليمن. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ یعنی احتلام والے سے ایک دینار یا اس کی برابر معافری ۱؎یعنی معافری وہ کپڑا ہے جو یمن میں ہوتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جزیہ صرف ذمی مرد عاقل بالغ سے لیا جائے گاعورت،بچے،دیوانہ پر جزیہ نہیں،اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔یوں ہی اندھے،بے دست و پا،فالج زدہ،بہت بوڑھے ذمی پر جزیہ نہیں،نیز جو فقیر کمائی کے قابل نہ ہو اس پر جزیہ نہیں، اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے۔حضرت عمر نے جب عثمان ابن حنیف کو حاکم بناکر بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ فقیر ذمی سے جزیہ نہ لیں،نیز حضرت عمر نے ایک بوڑھے ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو پوچھا تو کیوں بھیک مانگتا ہے وہ بولا مجھ پر جزیہ لازم ہے اس کی ادائیگی کے لیے مانگتا ہوں تب آپ نے اپنے حکام کو لکھا کہ بوڑھے ذمیوں سے جزیہ نہ لیں،یوں ہی ذمی غلام مکاتب مدبر ام ولد پر جزیہ نہیں،ان کے راہبوں پر بھی جزیہ نہیں۔(مرقات)یہ حدیث بظاہر امام شافعی کی دلیل ہے کہ ہر ذمی پر جزیہ واجب ہے غنی ہو یا فقیر مگر ہمارے ہاں یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے جس سے فقراء ذمی علیٰحدہ ہیں یا اس قوم سے صلح اس پر ہی ہوئی ہوگی کہ ہر بالغ پر جزیہ ہویا اتفاقًا اس قوم میں تمام امیر ہوں گے کوئی فقیر نہ ہوگا جیسے آج خوجے اور جوہری کہ ان میں کوئی فقیر نہیں۔
۲
؎معافر یمن میں ایک بستی ہے،چونکہ اسے معافر ابن یعفر نے بسایا تھا لہذا معافر کہلاتی ہے وہاں کا کپڑا بہت مشہور ہے جیسے ہمارے ہاں ڈھاکہ کی ململ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4036