Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5446

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الإِبِلِ بِبُصْرَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من أرض الحجاز تضيء أعناق الإبل ببصرى". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین حجاز سے ایک آگ اٹھے گی جو بصرےٰ کے اونٹوں کی گردن چمکادے گی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس آگ کے متعلق شارحین کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ اس آگ سے مراد فتنہ و جنگ تاتار کی آگ مراد ہے جس کا زیادہ زور بغداد میں رہا۔دوسرے یہ کہ اس آگ سے مراد واقعی آگ ہی ہے مگر وہ قریب قیامت نمودار ہوگی۔تیسرے یہ کہ آگ سے مراد آگ ہی ہے مگر یہ واقعہ ہوچکا کہ ماہ رجب تیسری تاریخ ۶۳۰ ؁ چھ سوتیس کو بیرون مدینہ منورہ ایک نہایت خطرناک آگ ایک بڑی شہر کی شکل میں نمودار ہوئی،باون۵۲ دن رہی یہ آگ پتھروں کو جلا کر راکھ کردیتی تھی مگر درخت اس سے نہ جلتے تھے،ایک بڑا پتھر اس جنگل میں تھا جس کا نصف حصہ حرم شریف سے باہر تھا نصف حرم شریف کے اندر،اس آگ نے اس کا بیرونی حصہ جلادیا مگر اندرون حصہ نہ جلاسکی،اس آگ کی گرمی مدینہ منورہ میں نہ پہنچی تھی وہاں ٹھنڈی ہوا ہی چلتی تھی باہر سخت گرمی تھی،رات کو اس کی روشنی سورج کی طرح ہوتی تھی جس سے اہل مدینہ اپنے کام کاج کرتے تھے مکہ معظمہ میں اس کی روشنی دیکھی گئی،یمامہ اور بصرہ میں اس آگ کی روشنی دیکھی گئی ،اہل مدینہ نے تنگ آکر روضہ مطہرہ پر دعا کی تو وہ آگ جانب شمال چلی گئی اور مدینہ منورہ محفوظ رہا ۔(مرقات،اشعہ)بہرحال قوی تر یہ ہی ہے کہ یہ واقعہ ہوچکا ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات قیامت کی علامت ہے مگر ہوچکی یوں ہی یہ آگ علامت قیامت ہے مگر واقعہ ہوچکی،یہ علامت صغریٰ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5446