Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5458

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِيُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ، حَرَّاثٌ، عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَنْصُورٌ يُوَطِّنُ أَوْ يُمَكِّنُ لآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ، وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ -أَوْ قَالَ: إِجَابَتُهُ-". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن علي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخرج رجل من وراء النهريقال له: الحارث، حراث، على مقدمته رجل يقال له: منصور يوطن أو يمكن لآل محمد كما مكنت قريش لرسول الله ، وجب على كل مؤمن نصره -أو قال: إجابته-". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا جسے حارث کہا جائے گا ۱∞؎کسان ہوگا ۲؎اس کے لشکر کے اگلے حصہ پر ایک شخص ہوگا جسے منصور کہا جاوے گا۳؎وہ محمد صلی الله علیہ و سلم کی اولاد کو ایسی ہی جگہ دے گا جیسے قریش نے الله کے رسول کو جگہ دی تھی ۴؎ہر مسلمان پر اس کی مدد ضروری ہے یا فرمایا اس کی بات قبول کرنا ضروری ہے ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎وراء النہر ایک علاقہ کا نام ہے جس میں بہت سے شہر ہیں جیسے بخارا اور سمر قند وغیرہ۔۲؎یعنی اس کا نام حارث ہوگا لقب حراث کیونکہ وہ کھیتی باڑی کرتا ہوگا۔۳؎منصور یا تو اس کا نام ہوگا یا اس کا لقب غالبًا یہ صاحب حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے۔(مرقات)۴؎یہاں قریش سے مراد ابو طالب حمزہ اور دوسرے وہ قریش حضرات ہیں جو حضور صلی الله علیہ و سلم کی دل و جان سے خدمت و حفاظت کرتے رہے اگرچہ اہل سنت کے نزدیک ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں،بعض نے فرمایا کہ آل محمد سے مراد حضرت امام مہدی اور ان کے متبعین ہیں یعنی حارث یا منصورا مام مہدی کے بڑے معاون اور مددگار ہوں گے۔۵؎یعنی ہر مسلمان پر حارث یا منصور کی مدد کرنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5458