Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5445

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ ويقولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبلَاءُ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول: يا ليتني مكان صاحب هذا القبر، وليس به الدين إلا البلاء"رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ دنیا نہ جائے گی حتی کہ ایک آدمی قبر پر گزرے گا تو وہ وہاں لوٹے گا اور کہے گا ہائے کاش اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا ۱∞؎اور نہ ہوگا اس میں دین سواء بلا کے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دنیا میں فتنے اور آفتیں بلائیں اس قدر ہوں گی کہ لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے اور قبر کو دیکھ کر تمنا کریں گے کہ اس قبر میں ہم دفن ہوچکے ہوتے۔۲؎یعنی اس لوٹنے والے تمنا کرنے والے میں دین کا شائبہ بھی نہ ہوگا اور وہ دین کی وجہ سے یہ آرزو نہ کرے گا بلکہ فتنوں میں مبتلا ہوگا،انہیں دنیاوی مصیبتوں کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا،یا یہ مطلب ہے کہ زمین پر اس وقت دین نہ رہے گا فتنے ہی فتنے بلائیں ہی بلائیں ہوں گی،وہ زمانہ وہ ہوگا جب زمین دین سے خالی ہوجاوے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5445