Main Icon

باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5439

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يُحَدِّثُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "إِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ"، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: "إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: بينما النبي -صلى الله عليه وسلم- يحدث إذ جاء أعرابي فقال: متى الساعة؟ قال: "إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة"، قال: كيف إضاعتها؟ قال: "إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہ حضور گفتگو فرمارہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا عرض کیا قیامت کب ہے ۱∞؎فرمایا جب امانت ضائع کردی جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۲؎اس نے عرض کیا کہ ضائع ہونا کیسے ہوگا فرمایا جب کام نااہلوں کے سپرد کردیا جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قیامت کی تاریخ مہینہ دن بتائیے۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب کلی بخشا اور یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم دیا گیا اس لیے تو آپ سے یہ سوال کرتے تھے، حضور انور نے بھی انہیں اس سوال پر کافر یا مشرک نہ کہا بلکہ قیامت کی علامات بیان فرمادیں اور علامتیں وہ بیان کرتا ہے جسے ہر شے کا پتہ ہو۔۲؎یہاں امانت سے مراد امامت حکومت سلطنت وغیرہ ہے جو رب تعالٰی کے امانتیں ہیں جو اس نے چند روز کے لیے بندوں کو سپرد فرمائی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۳؎اس طرح کہ حکومت فاسقوں یا عورتوں کو ملے،قاضی فقیر جاہل لوگ بنیں اور بے وقوف لوگ بادشاہ بنیں۔توسیدبنا ہےوسادۃسے اس کے معنی ہیں تکیہ کسی کے نیچے رکھنا یعنی نااہلوں کے سر تلے ان امانتوں کا تکیہ رکھ دیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5439