- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5450
باب : قیامت کی علامتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5450
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دِوَلًا،وَالأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَظَهَرَتِ الأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وشُربتِ الخمورُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَوَّلَهَا،
وعن أبى هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا اتخذ الفيء دولا،والأمانة مغنما، والزكاة مغرما، وتعلم لغير الدين، وأطاع الرجل امرأته وعق أمه، وأدنى صديقه وأقصى أباه، وظهرت الأصوات في المساجد، وساد القبيلة فاسقهم، وكان زعيم القوم أرذلهم، وأكرم الرجل مخافة شره، وظهرت القينات والمعازف، وشربت الخمور، ولعن آخر هذه الأمة أولها،
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب غنیمت کو اپنی دولت ۱∞؎اور امانت کو غنیمت اور زکوۃ کو ٹیکس بنالیا جاوے ۲؎اور غیر دین کے لیے علم حاصل کیا جاوے ۳؎اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت ماں کی نافرمانی کرے اور اپنے دوست کو قریب باپ کو دور کرے ۴؎اور مسجدوں میں آوازیں اونچی ہوں ۵؎اور قبیلہ کا بدکار قوم کی سرداری کرے اور قوم کا ذمہ دار ان کا کمینہ ہو اور آدمی کی تعظیم کی جاوے اس کی شرارت کے خوف سے ۶؎او ر رنڈیاں باجے ظاہر ہو جاویں اور شرابیں پی جاویں ۷؎اور اس کے پچھلے اگلوں پر لعنت کریں اس وقت تم سرخ ہوا،زلزلہ،دھنسنا اور صورتیں بدلنا پتھر برسنے اور ان نشانیوں کا انتظار کرنا جو لگاتار ہوں گی جیسے ہار جس کا دھاگہ توڑ دیا جاوے تو لگاتار کرکے ۸؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اس زمانہ سے متصل ہی قیامت ہوگی۔اس جگہ مشکوۃ شریف میں خالی جگہ چھوڑی ہے یعنی صاحب مشکوۃ کو اس حدیث کا مخرج و ماخذ معلوم نہیں ہوا مگر یہ حدیث ابوداؤد اور حاکم نے روایت فرمائی۔اسلام میں جہاد میں مال غنیمت غازیوں میں تقسیم ہوتا ہے گویا غنیمت غازیوں کا حصہ ہوتا ہے مگر قریب قیامت غنیمت کو مالدار آپس میں تقسیم کرلیا کریں گے،غریب غازیوں کو اس سے محروم کردیا کریں گے اسے اپنی دولت سمجھیں گے۔۲؎یعنی لوگ امانت کا مال اس طرح ہضم کر جاویں جیسے مال غنیمت اور لوگ زکوۃ دیں تو مگر عبادت سمجھ کر نہیں بلکہ ٹیکس سمجھ کر بے دلی بلکہ بددلی سے۔۳؎یعنی مسلمان دینی علم نہ پڑھیں دنیاوی علوم پڑھیں یا دینی طلباء دینی علم پڑھیں مگر تبلیغ دین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کمانے کے لیے جیسے آج مولوی عالم مولوی فاضل کے کورس میں فقہ تفسیر و حدیث کی ایک آدھ کتاب داخل ہے تو امتحان دینے والے یہ کتابیں پڑھ تو لیتے ہیں مگر صرف امتحان میں پاس ہو کر نوکری حاصل کرنے کے لیے،بعض طلباء صرف وعظ گوئی کے لیے دینی کتابیں پڑھتے ہیں۔۴؎یعنی بیوی کے کہنے میں آکر ماں سے دو ر رہے،اس کی نافرمانی کرے نیک باپ سے نفرت اور فاسق دوستوں سے محبت کرے۔غرضکہ بیوی اور دوستوں کی محبت میں ماں باپ کو ستائے یہ بات آج عام ہورہی ہے۔۵؎یعنی مسجدوں میں دنیاوی باتوں کا شور،لڑائیاں جھگڑے ہونے لگیں،نعت خوانی،ذکر اللہ کی مجلسیں،میلاد شریف ذکر کے حلقے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں بھی مسجدوں میں ہوتے تھے بعد نماز بلند آواز سے ذکر ہوتا تھا،مسجد حرام میں بلند آواز سے ذکر کرتے ہوئے طواف ہو تا تھا،حضرت حسان مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھتے تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اپنا میلاد خود ارشاد فرمایا ہے،لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ پر مسجد میں نعرہ تکبیر لگاتے تھے لہذا یہ آوازیں یہاں مراد نہیں۔۶؎یہ تینوں باتیں آج دیکھی جارہی ہیں فاسق و فاجر سردار ہیں،شریر لوگوں سے لوگ ڈرتے ہیں،ان کے سامنے حق بات نہیں کہہ سکتے۔۷؎ان چیزوں کا رواج تو آنکھوں دیکھا جارہا ہے۔عرب کے عام علاقوں میں شراب کھانے کا جز بن چکی ہے،ریڈیو کے ذریعہ ہر گھر رنڈی خانہ بنا ہوا ہے ہر درو دیوار سے گانے کی آواز یں آرہی ہیں،یہ کل سولہ چیزیں ہوئیں۔۸؎یعنی جب مسلمانوں میں مذکور ہ سولہ عیوب جمع ہوجائیں تو ان پر یہ مذکورہ پانچ دنیاوی عذاب یکے بعد دیگرے ایسے مسلسل آئیں گے جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جانے پر اس کے دانے مسلسل اوپر تلے گرتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں میں چودہ عیوب پیدا ہوچکے ہیں جن میں سے بعض عیب وہ ہیں جو سو اء مسلمانوں کے کسی قوم میں نہیں جیسے مسجد میں دنیاوی باتیں کرکے شور مچانا،یا بزرگوں اور سلف صالحین کو کافر و مشرک کہنا انہیں گالیاں دینا،عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خچر کے کھر کے نعل کا بڑا ہی ادب و احترام کرتے ہیں مگر مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات کو خود ہی مٹاتے ہیں،ساری قومیں اپنے بزرگوں کے دوستوں بیویوں کا بڑا احترام کرتی ہیں حتی کہ ہندو ہنومان کا ادب کرتے ہیں جو رام چندر کا ساتھی تھا،مصیبت کا مددگار تھا مگر مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کی بیویوں دوستوں پر تبرا کرنا عبادت جانتی ہے۔ابن عساکر نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر عمر کی محبت ایمان ہے ان سے بغض کفر ہے،جو میرے صحابہ کو برا کہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو ان کی عزت کی حفاظت کرے میں اس کی حفاظت کروں گا۔(مرقات)اور اب مذکو ر ہ عذاب آنے شروع ہوگئے ہیں ہر جگہ مسلمان زمینی اور آسمانی مصیبتوں میں گرفتار ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5450