Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4625

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ لِأَصْحَابِهٖ : «هَلْ رَأٰى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا؟» فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَقُصَّ وَإِنَّهٗ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ: " إِنَّهٗ أَتَانِي اللَّيْلَةَ اَتَيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ". وَذَكَرَ مِثْلَ الْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ بِطُولِهٖ وَفِيهِ زِيَادَةٌ لَيْسَتْ فِي الْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ وَهِيَ قَوْلُهٗ: " فَأَتَيْنَا عَلٰى رَوْضَةٍ مُعْتَمَّةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرٰى رَأْسَهٗ طُولًا فِي السَّمَاءِ وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ قُلْتُ لَهُمَا: مَا هٰذَا مَا هَؤُلَاءِ؟ " قَالَ:"قَالَا لِيَ: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلٰى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ ". قَالَ:"قَالَا لِيَ: اِرْقِ فِيهَا". قَالَ: «فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْنَا إِلٰى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَاهَا فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ» . قَالَ: " قَالَا لَهُمُ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذٰلِكَ النَّهَرِ " قَالَ: «وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ المَحْضُ فِي الْبَيَاضِ فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذٰلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» وَذَكَرَ فِي تَفْسِير هٰذِه الزِّيَادَة: «وَأما الرَّجلُ الطويلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهٗ إِبْرَاهِيمُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهٗ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الفِطْرَةِ» قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌمِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ قَدْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللهُ عَنْهُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن سمرة بن جندب قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مما يكثر أن يقول لأصحابه : «هل رأى أحد منكم من رؤيا؟» فيقص عليه من شاء الله أن يقص وإنه قال لنا ذات غداة: " إنه أتاني الليلة اتيان وإنهما ابتعثاني وإنهما قالا لي: انطلق فانطلقت معهما ". وذكر مثل الحديث المذكور في الفصل الأول بطوله وفيه زيادة ليست في الحديث المذكور وهي قوله: " فأتينا على روضة معتمة فيها من كل نور الربيع وإذا بين ظهري الروضة رجل طويل لا أكاد أرى رأسه طولا في السماء وإذا حول الرجل من أكثر ولدان رأيتهم قط قلت لهما: ما هذا ما هؤلاء؟ " قال:"قالا لي: انطلق فانطلقنا فانتهينا إلى روضة عظيمة لم أر روضة قط أعظم منها ولا أحسن ". قال:"قالا لي: ارق فيها". قال: «فارتقينا فيها فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة فأتينا باب المدينة فاستفتحنا ففتح لنا فدخلناها فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كأحسن ما أنت راء وشطر منهم كأقبح ما أنت راء» . قال: " قالا لهم: اذهبوا فقعوا في ذلك النهر " قال: «وإذا نهر معترض يجري كأن ماءه المحض في البياض فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا قد ذهب ذلك السوء عنهم فصاروا في أحسن صورة» وذكر في تفسير هذه الزيادة: «وأما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم وأما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة» قال: فقال بعض المسلمين: يا رسول الله وأولاد المشركين؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «وأولاد المشركين وأما القوم الذين كانوا شطرمنهم حسن وشطر منهم قبيح فإنهم قوم قد خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا تجاوز الله عنهم» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھی ہے چنانچہ آپ کی خدمت میں وہ شخص بیان کرتا جسے الله چاہتا اور حضور نے ایک صبح فرمایا کہ آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے ۱∞؎اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ گیا اور اس طرح کی حدیث بیان کی جو پہلی فصل میں بہت دراز ذکر ہوئی اس میں کچھ زیادتی بھی ہے جو مذکورہ حدیث میں نہیں ۲؎اور وہ حضور کا یہ قول ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ پر آئے ۳؎جس میں ہر قسم کی بہار کی کلیاں تھیں ۴؎اور ناگاہ باغ کے درمیان ایک دراز قد شخص ہے نہیں قریب تھا میں کہ ان کا سر دیکھوں آسمان میں درازی کی وجہ سے اور اس شخص کے اردگرد بہت بچے ہیں جنہیں میں نے کبھی دیکھا ہو ۵؎میں نے کہا یہ کیا ہے اور یہ کون لوگ ہیں؟ فرماتے ہیں وہ دونوں بولے چلو تو ہم ایک بڑے باغ تک پہنچے کہ اس سے بڑا میں نے کبھی نہ دیکھا ۶؎فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ میں اس میں چڑھ جاؤں فرماتے ہیں کہ پھر ہم اس میں چڑھ گئے تو ایسے شہر تک پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا تھا ۷؎تو ہم شہر کے دروازے پر پہنچے ہم نے دروازہ کھلوایا وہ کھولا گیا ہم اس میں داخل ہوگئے ۸؎وہاں ہم کو کچھ لوگ ملے جن کی آدھی شکل تو بہت ہی اچھی تھی جو تم دیکھو اور ان کی آدھی شکل بہت ہی بری جو تم دیکھو ۹؎فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے ان سے کہا جاؤ اس نہر میں کود جاؤ فرماتے ہیں کہ سامنے ہی نہر بہ رہی تھی جس کا پانی سفید و خالص چٹا تھا چنانچہ یہ لوگ گئے پھر اس میں کود گئے پھر ہمارے پاس آئے حالانکہ ان سے تمام برائی جاچکی تھی اور وہ نہایت اچھی شکل میں ہوگئے تھے ۱۰؎اور اس زیادتی کی تفسیر میں ذکر فرمایا ۱۱∞؎کہ وہ دراز قدشخص جو باغ میں تھے وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۱۲؎اوروہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ہر ایسا بچہ ہے جو اسلام پر مرے۱۳؎راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا یارسول الله مشرکوں کے بچے بھی تو فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اور مشرکوں کے بچے بھی۱۴؎لیکن وہ قوم جن کا آدھا حصہ اچھا اور اچھا برا تھا وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے اچھے برے کام ملا کر کئے الله تعالٰی نے ان سے درگزر فرمادی ۱۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ بھی منامی معراج ہے جو بالتفصیل پہلےگزر چکی۔یہ دونوں آنے والے دو فرشتے تھے حضرت جبرئیل و میکائیل علیہما السلام جو شکل انسانی میں حضور علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے۔
۲
؎یعنی ابھی پہلی فصل میں جو یہ ہی حدیث گزری ہے اس میں وہ زیادتی نہیں جو اب اس تیسری فصل میں بیان ہورہی ہے۔
۳
؎معتمہبنا ہےعمہسے بمعنی سیاہی یا اندھیرا اس لیے نماز عشاء کوعتمہکہا جاتا ہے کہ وہ رات اندھیری ہوجانے پر پڑھی جاتی ہے۔یہاںمعتمہکے معنی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کا سبزہ جو مائل بہ سیاہی ہو۔قرآن کریم دو جنتوں کے متعلق فرماتا ہے کہ "مُدْھَآمَّتَانِ"وہ دونوں باغ سیاہ ہیں یعنی ان کی سبزی مائل بہ سیاہی ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہمعتمہکے معنی ہیں گھنا باغ جس کے نیچے دھوپ نہ پہنچے زمین پر اندھیرا رہے،بعض نے فرمایا بڑی لمبی گھاس والا باغ مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔(مرقاۃ و اشعہ)۴؎ربیع موسم بہار کو کہتے ہیں جو سردی اور گرمی کے درمیان ہوتا ہے،اس زمانہ میں ہر قسم کے پھول و شگوفے کھلے ہوتے ہیں۔نوزنون کے فتحہ سے بمعنی شگوفہ و گل یعنی اس باغ میں ہر قسم کی کلیاں تھیں کسی پھول یا کلی کا انتظار نہ تھا۔
۵
؎لوگوں کا خیال ہے کہ لفظقطنفی کی تاکید کے لیے آتا ہے مگر حق یہ ہے کہقطنفی و اثبات دونوں کی تاکید کے لیے آتا ہے،یہاں اثبات کی تاکید کے لیے ہے یعنی اس شخص کے اردگرد اتنے زیادہ بچے ہیں کہ اتنے بچے کبھی کبھی ہی دیکھے ہوں گے۔
۶
؎یعنی یہ باغ اس پہلے باغ سے بھی زیادہ بڑا اور زیادہ خوبصورت تھا ورنہ یہ نہ فرمایا جاتا کہ ہم نے ایسا باغ کبھی نہ دیکھا۔
۷
؎یعنی اس باغ کے درمیان ایک بڑا شہرتھا اس شہر کے درمیان مکانات سونے چاندی کی اینٹوں کے تھے۔
۸
؎خیال رہے کہ دروازہ کھلوانے والے تو وہ دونوں فرشتے ہی تھے مگر اس شہر میں داخل ہونے والے وہ دونوں اور حضور صلی الله علیہ وسلم سب ہی حضرات ہیں جیساکہ بالکل ظاہر ہے۔
۹
؎یعنی اس شہر میں لوگوں کے آدھے منہ کالے اور بدنما آدھے منہ گورے اور نہایت خوشنما تھے یہ حسن و قبح انتہائی درجہ کا تھا۔
۱۰
؎یعنی اس نہر میں غسل کرتے ہی ان کے نصف منہ کی سیاہی ختم ہوگئی،سارا چہرہ حسین اور سفید ہوگیا تو یہ لوگ حسین اور گورے ہوکر ہمارے پاس آئے خوشیاں مناتے ہوئے۔سبحان الله!عجیب ہی خواب ہے۔
۱۱∞؎
ذکرمعروف ہے اس کا فاعل حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہیں یعنی خود حضور انور نے حضرات صحابہ کرام سے تعبیر ارشاد فرمائی۔معلوم ہوا کہ اگر خواب دیکھنے والا خود تعبیر کا علم رکھتا ہو خودبھی تعبیر دیدے کسی سے پوچھنے کی اسے ضرورت نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ خود بھی تعبیر دے تب بھی کسی کو خواب سنادے تعبیر بھی سنادے تاکہ اس کا ظہور ضرور ہوجاوے،بعض نسخوں میںذکرمجہول کے صیغے سے ہے مگر اسے مرقات نے ضعیف فرمایا۔
۱۲
؎حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دراز قد دیکھنا آپ کے بلندی درجات کی طرف اشارہ ہے جیسے قیامت کے دن مؤذن لوگ بہت درازگردن ہوں گے یہ درازی قدمعاذ اللهبری معلوم نہ ہوگی۔
۱۳
؎یعنی وہ انسان کے بچے جو لڑکپن میں مرجاویں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش میں رہتے ہیں۔
۱۴
؎یعنی کفار و مشرکین کے بہت چھوٹے اور بالکل نا سمجھ بچے جو فوت ہو جاویں وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش میں ہی مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ ہوں گے۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات انبیاء کرام اور اولیاء عظام بعد وفات بھی کار سازی کرتے ہیں،د یکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام بعد وفات ہمارے چھوٹے بچوں کو تربیت و پرورش فرمارہے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سب سے خبردار ہیں بے خبر نہیں،بعد وفات الله تعالٰی کے مقبول بندے بے خبر نہیں ہوجاتے۔تیسرے یہ کہ کفار اور مشرکین کے چھوٹے بچے فوت شدہ جنتی ہیں وہ دوزخی نہیں۔جن احادیث میں ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے تابع ہوکر دوزخی ہیں اس سے وہ بچے مراد ہیں جو ہوش سنبھال کر اپنی فطرت بدل کر کافر ہوکر مریں،جو شعور سے پہلے مرجاویں وہ جنتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں اسی لیے یہاںمات علی الفطرۃارشاد ہوا۔حدیث شریف میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا مجوسی یا مشرک بنادیتے ہیں، قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتْ"۔معلوم ہوا کہ مشرکین کی زندہ دفن شدہ بچی خود دوزخی نہیں بلکہ وہ اپنے ماں باپ کے خلاف گواہ ہے اور فرماتاہے:"وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ"۔ظاہر ہے کہ جنت میں تو بچے پیدا ہوا نہ کریں گے یہ وہ ہی بچے ہوں گے جو دنیا میں پیدا ہوکر بچپن میں ہی مر گئے اور جنت میں جنتیوں کے خدام بنائے گئے۔(مرقات)فقیر کی یہ تحقیق خوب یاد رکھی جاوے۔
۱۵
؎یعنی وہ گنہگار مسلمان ہیں جو بغیر توبہ مر گئے حضور کی شفاعت سے بخشے گئے وہ نہر شفاعت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نہر ہے رب نے انہیں معافی دے دی۔خیال رہے کہ نزع کی حالت میں بدعقیدگی سے توبہ قبول نہیں مگر بدعملی اور گناہوں سے توبہ قبول ہے۔جو اس وقت بھی توبہ نہ کرے اور یوں ہی مرجاوے اس کا ذکر یہاں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4625