Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4607

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَزَادَ مَالِكٌ بِرِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: «يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُرٰى لَهٗ»

وزاد مالك برواية عطاء بن يسار: «يراها الرجل المسلم أو ترى له»

حدیث ترجمہ

مالک نے بروایت عطاء ابن یسار یہ زیادتی کی کہ جسے مسلمان آدمی دیکھے یا اسے دکھائی جاوے ۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان خود خواب دیکھے یا دوسرا شخص اس کے متعلق خواب دیکھے۔طبرانی نے بروایت عبادہ ابن صامت حدیث نقل فرمائی کہ مؤمن کا خواب اس کا اپنے رب سے کلام کرنا ہے یا رب کا اس سے کلام کرنا۔ (مرقات)خواب میں رب تعالٰی کا دیدار بھی ہوسکتا ہے،ہمارے امام اعظم نے ننانوے بار رب تعالٰی کو خواب میں دیکھا۔یراھااوراو تری لہسے معلوم ہوتا ہے کہ بعض خواب انسان خود دیکھتا ہے کہ دن میں جو خیالات رکھتا ہے وہ ہی خواب دیکھتا ہے اور بعض خواب رب کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں،مؤمن کے یہ خواب الہام کا حکم رکھتے ہیں انہیں کو رؤیا صالحہ کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4607