- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- خواب کا بیان
- حدیث نمبر 4618
باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4618
خواب کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلٰى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلٰى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هٰذِهٖ : أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهٗ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهٗ أُخْرٰى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَجَاءَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل فذهب وهلي إلى أنها اليمامة أو هجر فإذا هي المدينة يثرب ورأيت في رؤياي هذه : أني هززت سيفا فانقطع صدره فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد ثم هززته أخرى فعاد أحسن ما كان فإذا هوجاء الله به من الفتح واجتماع المؤمنين "(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں تو میرا خیال ادھر گیا ۱∞؎کہ وہ زمین یمامہ یا ہجر ہے ۲؎مگر وہ نکلا مدینہ یعنی یثرب ۳؎اور میں نے اپنی اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو اس کا درمیانی حصہ ٹوٹ گیا یہ وہ تکلیف تھی جو مسلمان کو احد کےدن پہنچی ۴؎پھر میں نے اسے دوبارہ ہلایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی ہوگئی تو یہ وہ فتح اور مسلمانوں کا اجتماع ہے جو الله تعالٰی نے عطا فرمایا ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎وھلواؤ اورہکے فتحہ سے بمعنی گھبراہٹ اور فورًا دل میں آنے والا خیال۔(مرقات)۲؎یمامہ ایک لونڈی کا نام تھا جس کی آنکھیں نیلی اور نگاہ بہت تیز تھی،بور نو شہر اور علاقہ اس کی طرف منسوب ہے،یمامہ سارے حجاز میں زیادہ ہرا بھرا اور کھجوروں والی بستی ہے،مکہ معظمہ سے جانب مشرق ہے، بصرہ کوفہ سے سولہ منزل پر ہے،مسیلمہ کذاب یہاں ہی کا باشندہ تھا،ہجر بحرین کے علاقہ میں ایک شہر ہے جہاں کے گھڑے اور مٹکے بہت مشہور تھے۔
۳؎یعنی اس خواب کے کچھ دیر بعد علامات سے معلوم ہوا کہ ہماری جائے ہجرت مدینہ منورہ ہے جسے لوگ یثرب کہتے ہیں، حضور کی یہ تعبیر ہجرت سے کہیں پہلے ہوچکی تھی خواب دیکھنے کے کچھ بعد جہاںفاذاکی ف سے معلوم ہورہا ہے دیکھو اشعہ۔ خیال رہے کہ مدینہ منورہ کے قریبًا اسّی نام ہیں جن میں سے بہت سے نام شیخ عبدالحق نے اپنی کتاب جذب القلوب میں بیان فرمائے: مدینہ،طیبہ،طابہ،بطحی۔ابطح وغیرہ۔اسے یثرب کہنا منع ہے طریقہ منافقین ہے،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ منافقین کہتے ہیں"یٰۤاَهۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ"امام احمد نے بروایت براء ابن عازب مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو اسے یثرب کہے وہ توبہ کرے(مرقات)بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کی کہ حضور فرماتے ہیں جو ایک بار مدینہ کو یثرب کہے وہ کفارہ کے لیے دس بار مدینہ کہے۔(اشعہ)یثرب نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا جس نے یہ شہر آباد کیا۔(اشعہ)والله اعلم!روح البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے زمانہ سلیمانی میں تبع نے آباد کیا،نیزیثرببنا ہےثربسے بمعنی ہلاکت یا مصیبت،یثرببمعنی مصیبت و آفات کی جگہ،چونکہ پہلے یہ جگہ بڑی بیماریوں والی تھی اس لیے یثرب کہلاتی تھی حضور کی برکت سے طیبہ یعنی صاف کی ہوئی زمین ہوگئی اب وہ جگہ بجائے دارالوباء کے دارالشفاء بن گئی۔
۴؎یعنی تلوار کا ٹوٹنا مسلمانوں کی وہ پریشانی تھی جو انہیں احد میں پہنچی۔معلوم ہوا کہ غازی مسلمان حضور کی تلوار ہیں اور حضور کے ہاتھ میں ہیں۔
۵؎اس فتح سے مراد یا تو خود احد کے دن کی فتح ہے کہ اولًا مسلمانوں کے قدم اکھڑے اور ستر حضرات شہید ہوگئے پھر حضور کے قدموں میں جمع ہوگئے اور بخیروخوبی مدینہ منورہ پہنچے،نہ ان کا مال لٹا نہ کوئی مسلمان قیدی ہوا،کفار مکہ کی آرزو پوری نہ ہوئی وہ تو مدینہ منورہ کو برباد کرنے آئے تھے ناکام گئے ،بامراد بعد کی فتوحات ہیں جیسے فتح مکہ،فتح حنین،فتح خیبر وغیرہ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4618