Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4618

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلٰى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلٰى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هٰذِهٖ : أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهٗ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهٗ أُخْرٰى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَجَاءَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل فذهب وهلي إلى أنها اليمامة أو هجر فإذا هي المدينة يثرب ورأيت في رؤياي هذه : أني هززت سيفا فانقطع صدره فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد ثم هززته أخرى فعاد أحسن ما كان فإذا هوجاء الله به من الفتح واجتماع المؤمنين "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں تو میرا خیال ادھر گیا ۱∞؎کہ وہ زمین یمامہ یا ہجر ہے ۲؎مگر وہ نکلا مدینہ یعنی یثرب ۳؎اور میں نے اپنی اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو اس کا درمیانی حصہ ٹوٹ گیا یہ وہ تکلیف تھی جو مسلمان کو احد کےدن پہنچی ۴؎پھر میں نے اسے دوبارہ ہلایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی ہوگئی تو یہ وہ فتح اور مسلمانوں کا اجتماع ہے جو الله تعالٰی نے عطا فرمایا ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وھلواؤ اورہکے فتحہ سے بمعنی گھبراہٹ اور فورًا دل میں آنے والا خیال۔(مرقات)۲؎یمامہ ایک لونڈی کا نام تھا جس کی آنکھیں نیلی اور نگاہ بہت تیز تھی،بور نو شہر اور علاقہ اس کی طرف منسوب ہے،یمامہ سارے حجاز میں زیادہ ہرا بھرا اور کھجوروں والی بستی ہے،مکہ معظمہ سے جانب مشرق ہے، بصرہ کوفہ سے سولہ منزل پر ہے،مسیلمہ کذاب یہاں ہی کا باشندہ تھا،ہجر بحرین کے علاقہ میں ایک شہر ہے جہاں کے گھڑے اور مٹکے بہت مشہور تھے۔
۳
؎یعنی اس خواب کے کچھ دیر بعد علامات سے معلوم ہوا کہ ہماری جائے ہجرت مدینہ منورہ ہے جسے لوگ یثرب کہتے ہیں، حضور کی یہ تعبیر ہجرت سے کہیں پہلے ہوچکی تھی خواب دیکھنے کے کچھ بعد جہاںفاذاکی ف سے معلوم ہورہا ہے دیکھو اشعہ۔ خیال رہے کہ مدینہ منورہ کے قریبًا اسّی نام ہیں جن میں سے بہت سے نام شیخ عبدالحق نے اپنی کتاب جذب القلوب میں بیان فرمائے: مدینہ،طیبہ،طابہ،بطحی۔ابطح وغیرہ۔اسے یثرب کہنا منع ہے طریقہ منافقین ہے،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ منافقین کہتے ہیں"یٰۤاَهۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ"امام احمد نے بروایت براء ابن عازب مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو اسے یثرب کہے وہ توبہ کرے(مرقات)بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کی کہ حضور فرماتے ہیں جو ایک بار مدینہ کو یثرب کہے وہ کفارہ کے لیے دس بار مدینہ کہے۔(اشعہ)یثرب نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا جس نے یہ شہر آباد کیا۔(اشعہ)والله اعلم!روح البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے زمانہ سلیمانی میں تبع نے آباد کیا،نیزیثرببنا ہےثربسے بمعنی ہلاکت یا مصیبت،یثرببمعنی مصیبت و آفات کی جگہ،چونکہ پہلے یہ جگہ بڑی بیماریوں والی تھی اس لیے یثرب کہلاتی تھی حضور کی برکت سے طیبہ یعنی صاف کی ہوئی زمین ہوگئی اب وہ جگہ بجائے دارالوباء کے دارالشفاء بن گئی۔
۴
؎یعنی تلوار کا ٹوٹنا مسلمانوں کی وہ پریشانی تھی جو انہیں احد میں پہنچی۔معلوم ہوا کہ غازی مسلمان حضور کی تلوار ہیں اور حضور کے ہاتھ میں ہیں۔
۵
؎اس فتح سے مراد یا تو خود احد کے دن کی فتح ہے کہ اولًا مسلمانوں کے قدم اکھڑے اور ستر حضرات شہید ہوگئے پھر حضور کے قدموں میں جمع ہوگئے اور بخیروخوبی مدینہ منورہ پہنچے،نہ ان کا مال لٹا نہ کوئی مسلمان قیدی ہوا،کفار مکہ کی آرزو پوری نہ ہوئی وہ تو مدینہ منورہ کو برباد کرنے آئے تھے ناکام گئے ،بامراد بعد کی فتوحات ہیں جیسے فتح مکہ،فتح حنین،فتح خیبر وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4618