Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4615

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

قَالَ البُخَارِيُّ: رَوَاهُ قَتَادَةُ وَيُونُسُ وَهُشَيْمٌ وَأَبُو هِلَالٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ يُونُسُ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْدِ وَقَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ؟ وَفِي رِوَايَةٍ أُدْرِجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلُهٗ: «وَأَكْرَهُ الغُلَّ. . .» إِلٰى تَمَامِ الْكَلَامِ.

قال البخاري: رواه قتادة ويونس وهشيم وأبو هلال عن ابن سيرين عن أبي هريرة وقال يونس: لا أحسبه إلا عن النبي صلى الله عليه وسلم في القيد وقال مسلم: لا أدري هو في الحديث أم قاله ابن سيرين؟ وفي رواية أدرج في الحديث قوله: «وأكره الغل. . .» إلى تمام الكلام.

حدیث ترجمہ

بخاری نے فرمایا کہ اسے قتادہ یونس ہشیم اور ابو ہلال نے محمد ابن سیرین سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے ۱∞؎روایت کیا یونس نے فرمایا میں اسے نہیں خیال کرتا مگر نبی صلی الله علیہ وسلم سے قید کے متعلق ۲؎اور مسلم نے کہا مجھے خبر نہیں کہ وہ حدیث میں ہے یا یہ ابن سیرین نے کہا۳؎اورایک روایت میں ہے کہ حدیث میں یہ قولاکرہ الغلپورے کا پورا حدیث میں داخل کرلیا گیا ہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎قتادہ تو مشہور تابعی ہیں،یونس نام کے بہت راوی ہیں یہاں یونس ابن عبید بصری مراد ہیں جو عبدالقیس کے آزادکردہ غلام ہیں کیونکہ محمد ابن سیرین سے زیادہ روایت یہی کرتے ہیں،ہشیم سے مراد ہشیم ابن بشیر سلمی ہیں،ابو ہلال بھی تابعی ہیں،ان چاروں بزرگوں نے کہا کہ محمد ابن سیرین نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔(اشعہ)۲؎یعنی یونس ابن عبید نے کہا کہ قید کے متعلق یہ فرمان کہ قید پسند کرتے تھے یہ حضور کا فرمان عالی ہے کہ حضور خواب میں قید دیکھنا پسند فرماتے تھے۔
۳
؎یعنی خواب میں قید دیکھنے کا محبوب ہونا یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے یا محمد ابن سیرین کا اپنا قول ہے۔
۴
؎یعنیکان یکرہ الغلسے لے کرفی الدینتک کی عبارت حدیث میں نہیں ہے یہ ابن سیرین کا اپنا قول ہے مگر اسے حدیث میں اس طرح بیان کیا ہے کہ حدیث کا جز معلوم ہوتا ہے یہ شامل کرنے والے یا تو ابن سیرین ہیں یا ابوہریرہ۔ (اشعہ)یہاں مرقات نے فرمایا کہ طوق گردن میں پڑتا ہے اور قیامت کے دن کفار کی گردنوں میں طوق ہوگا،رب فرماتاہے: "إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ"لہذا یہ خواب میں دیکھنا اچھا نہیں اور بیڑیاں پاؤں میں پڑتی ہیں جس سے پاؤں ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے اس میں اشارہ ہے کہ اس کو اسلام پر ثابت قدمی نصیب ہوگی،اپنے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے دیکھنا بخل کی علامت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4615