Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4616

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلُ اِلَي النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهٖ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: جاء رجل الي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: رأيت في المنام كأن رأسي قطع قال: فضحك النبي صلى الله عليه وسلم وقال: إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرا سر کاٹ دیا گیا ہے ۱∞؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا جب تم میں سے کسی سے شیطان خواب میں کھیلے تو لوگوں کو اس کی خبر نہ دے(مسلم)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے ذبح یا قتل کردیا گیا اور میں اپنے ذبح اپنے قتل کو خود دیکھ رہا ہوں وہ صاحب خواب سے گھبرا گئے تھے۔
۲
؎شاید حضور صلی الله علیہ وسلم نے وحی سے معلوم فرمالیا کہ یہ خواب اضغاث احلام سے ہے شیطان نے اسے مغموم کرنے کے لیے یہ خواب دکھایا ہے اگر یہ خواب درست ہو تو اس کی تعبیر ہوتی ہے،تبدیلی حال مغموم دیکھے تو اسے خوشی ہوگی،خوش حال دیکھے تو وہ بدحال ہوجاوے گا،غلام دیکھے تو آزاد ہوجاوے گا،مقروض دیکھے تو قرض سے آزاد ہوجاوے گا لہذا یہ حدیث بھی صحیح ہے اور معبرین کی یہ مذکورہ تعبیریں بھی درست ہیں۔ (مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4616