Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4614

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ يَكَدْ يَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهٗ لَا يَكْذِبُ».قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: وَأَنَا أَقُولُ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: حَدِيثُ النَّفْسِ وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ وَبُشْرٰى مِنَ اللّٰهِ فَمَنْ رَأٰى شَيْئًا يَكْرَهُهٗ فَلَا يَقُصَّهٗ عَلٰى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ الغَلَّ فِي النَّوْمِ وَيُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ وَيُقَالُ: الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«إذا اقترب الزمان لم يكد يكذب رؤيا المؤمن ورؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وما كان من النبوة فإنه لا يكذب».قال محمد بن سيرين: وأنا أقول: الرؤيا ثلاث: حديث النفس وتخويف الشيطان وبشرى من الله فمن رأى شيئا يكرهه فلا يقصه على أحد وليقم فليصل قال: وكان يكره الغل في النوم ويعجبهم القيد ويقال: القيد ثبات في الدين. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب زمانہ قریب ہوگا ۱∞؎تو مؤمن کی خواب جھوٹی نہ ہوسکے گی۲؎اور مؤمن کی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور جس کا تعلق نبوت سے ہو وہ جھوٹی نہیں ہوتی ۳؎محمد ابن سیرین نے فرمایا۴؎کہ میں کہتا ہوں کہ خواب تین طرح کی ہے نفسیاتی خیالات ۵؎اور شیطان کی دھمکی اور الله کی طرف سے بشارت ۶؎تو جو ناپسند چیز خواب میں دیکھے اسے کسی پر بیان نہ کرے اور کھڑا ہوجاوے نماز پڑھ لے ۷؎فرمایا کہ آپ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اورا نہیں قید پسندتھی ۸؎کہا جاتا ہے کہ قید دین میں پختگی ہے۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قرب زمان میں کئی احتمال ہیں: قریب قیامت،موت کے قریب کا زمانہ یعنی بڑھاپا وہ مہینے جن میں دن رات برابر ہوتے ہیں۔حضرت امام مہدی کے ظہور کا زمانہ جب کہ لوگوں میں عیش و عشرت بہت ہوگا،سال گزرے گا مہینہ کی طرح،مہینہ ہفتہ کی طرح،ہفتہ ایک دن کی طرح وہ زمانہ جب لوگوں کی عمریں گھٹ جائیں گی یا شروفساد کا زمانہ جب لوگ ایک دوسرے سے گتھ جائیں قتل و خون کے لیے قریب ہوں گے۔(اشعہ)مرقات میں اس کے اور بہت سے معنی کیے گئے ہیں مثلًا یاجوج ماجوج کے خروج کا زمانہ۔
۲
؎یعنی ان زمانوں میں اہلِ اسلام کی اکثر خوابیں صحیح ہوا کریں گی ان تمام موقعوں پر خوابیں درست ہونے کی وجہیں مرقات و لمعات وغیرہ نے بہت دراز بیان فرمائی ہیں۔
۳
؎اس مضمون کی شرح ابھی کچھ پہلے ہم عرض کرچکے ہیں۔
۴
؎محمد ابن سیرین حضرت انس ابن مالک کے آزادکردہ غلام ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،بڑے فقیہ محدث عالم باعمل تھے، ستتر۷۷سال عمر پائی، ۱۱۰ھ؁∞ ایک سو دس میں وفات ہوئی،بصرہ کے پاس خواجہ حسن بصری کے ساتھ ایک ہی حجرہ میں دفن ہیں۔
فقیرنے قبر شریف کی زیارت کی ہے آپ اپنے زمانہ میں علم تعبیر کے امام تھے۔
۵
؎کہ دن بھر کے خیالات رات کو خواب کی شکل میں نظر آجاتے ہیں۔
۶
؎یعنی ہر خواب سچا نہیں ہوتا نفسانی شیطانی خواب مثل وسوسہ کے ہوتے ہیں ناقابل اعتبار اور رحمانی خواب، ہاں رحمانی خواب جس کا تعلق فرشتہ سے ہوتا ہے وہ درست ہی ہوتے ہیں یہ ہماری خوابوں کا حال ہے،حضرت انبیاءکرام کے خواب ہمیشہ رحمانی اور درست ہوتے ہیں لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔
۷
؎تاکہ نماز کی برکت سے شیطان کا اثر جاتا رہے یہ مشورہ جب ہے جب کہ نماز میں دل لگے ورنہ بائیں ہاتھ کی طرف تھتکار دے،کروٹ بدل لے،لاحولشریف پڑھ لے جیساکہ ابھی پچھلی حدیث میں گزرا۔
۸
؎یعنی ابن سیرین خواب میں اپنے گلے میں طوق دیکھنا نا پسندکرتے تھے اپنے پاؤں میں زنجیر و بیڑیاں دیکھنا پسند کرتے تھے اور کہتے تھے یا حضرات صحابہ کرام خواب میں اپنے گلے میں طوق دیکھنا ناپسند کرتے تھے۔کان یکرہکا فاعل ابن سیرین ہیں اوریعجبھمکا مرجع حضرات صحابہ کرام ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ گلے میں طوق لعنت کی علامت ہے،پاؤں میں بیڑی دین پر استقامت کی نشانی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4614