Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4620

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: رَأَيْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي فَقَصَصْتُهَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ذٰلِكَ عَمَلُهٗ يُجْرٰى لَهٗ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أم العلاء الأنصارية قالت: رأيت لعثمان بن مظعون في النوم عينا تجري فقصصتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ذلك عمله يجرى له . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ام العلاء انصاریہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں میں نے عثمان ابن مظعون کا چشمہ خواب میں دیکھا تھا بہتا ہوا ۲؎میں نے اسکا واقعہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا تو فرمایا کہ یہ اس کا عمل ہے جو اس کے لیے جاری ہے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام زینب ہے،زید ابن ثابت کی زوجہ ہیں،خارجہ ابن زید کی والدہ،عثمان ابن مظعون آپ کے ہاں دائمی مہمان تھے،آپ کے حصے میں آئے تھے،حضور نے مہاجرین کو انصار میں تقسیم فرمادیا تھا تو حضرت عثمان ابن مظعون جناب ام العلاء کے پاس رہے۔
۲
؎یہ مضمون بڑی حدیث کا حصہ ہے۔عثمان ابن مظعون کعب ابن لوی کی اولاد میں سے ہیں،قریش میں تیرھویں مسلمان ہیں، صاحب ہجرتین ہیں،حضور کی ہجرت کے اڑھائی سال بعد مدینہ منورہ میں فوت ہوئے،حضور نے آپ کی پیشانی چومی،آپ مدینہ میں پہلے مہاجر ہیں جن کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے،ان کے متعلق ام العلاء نے خواب میں دیکھا کہ ان کے پاس شفاف پانی کا چشمہ رواں ہے۔
۳
؎یعنی حضرت عثمان مرابط مجاہد تھے اور مجاہد کو تا روز قیامت ثواب ملتا ہے،اس کا عمل صدقہ جاریہ ہوتاہے، اسے ہمیشہ ثواب ملتا رہتا ہے،یہ پانی کا چشمہ ان کا دائمی ثواب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4620