Main Icon

باب:خواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4623

خواب کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ. فَقَالَتْ لَهٗ خَدِيجَةُ: إِنَّهٗ كَانَ قَدْ صَدَّقَكَ وَلٰكِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرِيتُهٗ فِي الْمَنَامِ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ وَلَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَكَانَ عَلَيْهِ لِبَاسٌ غَيْرُ ذٰلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ

وعن عائشة قالت سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ورقة. فقالت له خديجة: إنه كان قد صدقك ولكن مات قبل أن تظهر. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أريته في المنام وعليه ثياب بيض ولو كان من أهل النار لكان عليه لباس غير ذلك . رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ورقہ کے متعلق پوچھا گیا ۱∞؎حضور سے جناب خدیجہ نے کہا کہ انہوں نے آپ کی تصدیق کی تھی ۲؎لیکن اظہار سے پہلے وفات پاگئے ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خواب میں وہ دکھائے گئے ان پر سفید کپڑے تھے اور اگر وہ آگ والوں سے ہوتے تو ان پر اس کے علاوہ لباس ہوتا ۴؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ ورقہ مسلمان ہیں یا نہیں،یہ ورقہ ابن نوفل ابن اسد ابن عبدالعزیٰ ابن قصی ابن کلاب ہیں،قرشی ہیں، حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی ہیں،اسلام سے پہلے فوت ہوئے وہ عیسائی بن گئے تھے،حضور کا ابتدائی زمانہ نبوت پایا آپ کی تصدیق کی اس لیے بعض نے انہیں صحابی مانا ہے۔(مرقات)انجیل کا عربی ترجمہ آپ نے ہی کیا تھا کبھی بت پرستی نہ کی،آخر میں نابینا ہوگئے تھے، پہلی وحی کے موقع پر حضرت خدیجہ کا حضور صلی الله علیہ وسلم کو ان کے پاس لے جانا اور ان کا حضور کو نبوت کی بشارت دینا اور تمناکرنا کہ کاش میں کچھ زندہ رہتا تو آپ کی اس وقت مددکرتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی وغیرہ وغیرہ، بخاری شریف وغیرہ میں مذکور ہے۔
۲
؎اور عرض کیا تھا کہ آپ پر جو فرشتہ آج اترا ہے یہ وہ ہی فرشتہ ہے جو موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام پر اترتا تھا۔یہ عرض معروض تصدیق کی علامت ہے فرمایا جاوے کہ وہ اس تصدیق سے مؤمن ہوئے یا نہیں۔
۳
؎یعنی ورقہ بن نوفل اس سے پہلے ہی وفات پاگئے کہ آپ لوگوں پر اپنی نبوت ظاہر فرمادیں اور ان کو دعوتِ اسلام دیں۔
۴
؎یعنی ورقہ کے متعلق ہم پر وحی جلی تو نہ آئی مگر وحی خفی یعنی خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردے کو سفید لباس میں خواب میں دیکھنا اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے اور یہ کہ حضرت ورقہ مؤمن ہیں مغفور ہیں بلکہ بعض کے نزدیک صحابی ہیں کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو بحالت نبوت پالیا اور حضور کی تصدیق کردی اگرچہ اعلان نبوت تبلیغ اسلام کا زمانہ نہ پایا انکے نزدیک یہ چیز صحابیت کے لیے کافی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4623