Main Icon

باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 525

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَليٍّ قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّيْنُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلٰى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلٰى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، والدَّارِمِيُّ مَعْنَاهُ.

وعن علي قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه، وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظاهر خفيه. رواه أبو داود، والدارمي معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں اگر دین رائے سے ہوتا تو موزوں کے نیچے مسح کرنا اوپر مسح کرنے سے بہتر ہوتا میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎(ابوداؤد)دارمی نے اس کے معنی کی روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ موزوں کے صرف ظاہر پر مسح ہوگا نہ کہ تلے پرجیساکہ ہمارے امام صاحب کا قول ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عقل حکم شرع کے خلاف ہو تو عقل مردود ہے،اور حکم شرع مقبول۔دیکھو حضرت علی کی عقل کہتی تھی کہ موزے کے نیچے مسح ہونا چاہیئے کیونکہ زمین سے وہی حصہ لگتا ہے اور گندگی سے وہی قریب رہتا ہے مگر حکم شرعی کے مقابل آپ نے اپنی رائے چھوڑدی۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ اگر دین رائے سے ہوتا تو میں پیشاب سےغسل واجب کرتا اور منی سے وضو کیونکہ پیشاب بالاتفاق نجس ہے اورمنی بعض علماء کے ہاں پاک بھی ہے۔اورمیں لڑکی کو لڑکے سے دگنی میراث دیتاکیوں کہ لڑکی کمزور ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 525