Main Icon

باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 524

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمُغِيْرَةِ قَالَ: مَسَحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَسِيْتَ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتَ نَسِيْتَ،بِهَذَا أَمرنِيْ رَبِّيْ عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

عن المغيرة قال: مسح رسول الله صلى الله عليه وسلم- على الخفين، فقلت: يا رسول الله نسيت؟ قال: بل أنت نسيت،بهذا أمرني ربي عز وجل. رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پرمسح کیا میں نے عرض کیا یارسول الله کیا آپ بھول گئے فرمایا بلکہ تم بھول گئے مجھے میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا ۱؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ حضرت مغیرہ نے اس سے پہلے موزوں کا مسح نہ دیکھا تھا،اس لیے یہ سوال کیااور بزرگوں کی طرف بھول کی نسبت کرنا خود اپنی غلطی اور بھول ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طریقۂ ادب بھول گئے۔اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح قرآن شریف سے بھی ثابت ہے،کیونکہ"وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ"میں ایک قراتاَرْجُلْکے لام کے کسرہ سے بھی ہے اور عام قرات فتح سے۔مطلب یہ ہوا کہ موزے پہنے ہوں تو مسح کرو،نہ پہنے ہوں تو دھولو۔اورممکن ہے کہ یہاں الله کا حکم سے مراد وحی خفی ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 524