Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2677

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيهِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم لِرُعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ: أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

وعن أبي البداح بن عاصم بن عدي عن أبيه قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم لرعاء الإبل في البيتوتة: أن يرموا يوم النحر ثم يجمعوا رمي يومين بعد يوم النحر فيرموه في أحدهما. رواه مالك والترمذي والنسائي وقال الترمذي: هذا حديث صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو البداح ابن عاصم ابن عدی سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اونٹ چرانے والوں کو شب گزاری کی اجازت دی ۲؎کہ بقر عید کے دن رمی کرلیں پھر بقر عید کے بعد دو دن کی رمی جمع کرلیں اس طرح کہ ان دونوں میں سے ایک ہی رمی کریں ۳؎(مالک،ترمذی، نسائی)اور ترمذی نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎مرقات نے فرمایا کہ ابن عاصم ابوالبداح کا بدل ہے اور ان کی کنیت ابو عمرو ہے،ابوالبداح لقب ہے،آپ اپنے لقب میں مشہور ہوگئے ہیں،بعض کے خیال آپ تابعی ہیں مگر حق یہ ہے کہ صحابی ہیں جیسا کہ ابن عبدالبر نے فرمایا۔
۲
؎کہ منٰی کے زمانہ میں راتیں اپنے گھر گزاریں،منٰے میں رات گزارنا ان پر لازم نہیں۔
۳
؎اس کی صورت یہ ہے کہ بقرعید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں،گھر چلے جائیں،گیارھویں کو نہ آئیں،بارھویں کو دونوں دنوں یعنی گیارھویں بارھویں کی رمی کرلیں۔امام شافعی و مالک بلکہ امام اعظم کے ہاں بھی تقدیم جائز نہیں بلکہ تاخیر جائز ہے،یعنی گیارھویں کو دونوں دن کی رمی نہ کریں بلکہ بارھویں کو کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2677