Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2666

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهٗ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهٖ إِذَا خَرَجَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: نزول الأبطح ليس بسنة إنما نزله رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنه كان أسمح لخروجه إذا خرج(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مقام ابطح میں اترنا سنت نہیں ۱؎وہاں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اس لیے اترے تھے کہ آپ کی روانگی کے لیے آسان تر تھا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سنت مؤکدہ نہیں یا حج کی سنت نہیں جس کے چھوٹ جانے سے حج ناقص ہوجائے یا سنت ہدی نہیں بلکہ سنت زائد ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ہر کام جو امت کے لیے لائق عمل ہو سنت ہے،اگر چہ حضور انور نے ایک بار ہی کیا ہو اور اگرچہ عادت کریمہ کے طور پر ہی ہو،ہاں جو خلاف اولٰی کام بیان جواز کے لیے کئے ہیں یا تعلیمًا کئے وہ اس سے خارج ہیں۔سنت کی پوری بحث مع اقسام کے ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔
۲
؎یعنی منٰی سے واپسی پر وادی محصب میں جسے ابطح بھی کہتے ہیں۔اترنا وہاں قیام یا آرام کرنا سنت حج نہیں،حضور انور نے اسی لیے وہاں قیام فرمایا کہ اس قیام میں اپنا سامان وہاں ہی چھوڑ دیا اور مکہ معظمہ جاکر طواف وداع کیا پھر اسی راستے سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے راستہ میں یہاں سے اپنا سامان لے لیا،اس شرح کی بنا پر حدیث بالکل واضح ہے،اس میں کوئی ایچ بیچ نہیں۔خیال رہے کہ حضرات خلفائے راشدین وابن عمر وغیرھم رضی اللّٰہ عنہم اس قیام ابطح کو سنت حج فرماتے تھے،ان کے نزدیک حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ارادۃً یہاں قیام فرمایا تھا تاکہ مشرکین کا رد عمل ہو اور خدا کا شکر کریں کہ کل تک یہاں اسلام کے خلاف بائیکاٹ کی کمیٹیاں ہوتی تھیں اور آج ہم آزادانہ یہاں نمازیں پڑھ رہے ہیں جیسے طواف میں رمل اور حضرت عائشہ صدیقہ، ابن عباس،ابو رافع وغیرہم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے ہاں یہ سنت حج نہیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اتفاقًا یہاں قیام فرمایا تھا،یہ ہی قول امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا ہےمگر وہاں قیام اگر نصیب ہو تو بہتر ہے کہ اگرچہ یہ سنت حج نہیں مطلقًا سنت تو ہے۔(لمعات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2666