Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2661

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ عَلٰى اَثَرِ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتّٰى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَّيَدْعُوا وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطٰى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمٰى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: هٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن سالم، عن ابن عمر: أنه كان يرمي جمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على اثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة طويلا ويدعوا ويرفع يديه ثم يرمي الوسطى بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم يأخذ بذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر عند كل حصاة ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول: هكذا رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يفعله. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سالم سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ وہ قریبی جمرہ کی ۱؎سات کنکروں سے رمی کرتے تھے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۲؎پھر آگے بڑھ جاتے حتی کہ نرم زمین میں آجاتے پھر رو بقبلہ دیر تک کھڑے رہتے ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے ۳؎پھر درمیانی جمرہ کی سات کنکریوں سے رمی کرتے ۴؎جب بھی کنکری پھینکتے تو تکبیر کہتے پھر بائیں طرف ہٹ جاتے نرم زمین میں پہنچ جاتے روبقبلہ کھڑے ہوتے پھر ہاتھ اٹھائے دعاکرتے رہتے دیر تک کھڑے رہتے پھربطن وادی سے پیچھے والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے ۵؎کہ ہرکنکری پرتکبیر کہتے تھے مگر اس کے پاس کھڑے نہ ہوتے تھے ۶؎پھر واپس ہوجاتے حضرت ابن عمرفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ عمل کرتے دیکھا ۷؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس ستون کا نام جمرہ اولٰی بھی ہے اور جمرہ دینا بھی کیونکہ مسجد حنیف سے قریب ہے،اسی کے قریب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج میں قیام فرمایا تھا۔
۲
؎اس جمرہ کی رمی گیارھویں،بارھویں،تیرھویں بقرعید کو ہوتی ہے،دسویں کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہے،ہرکنکری کے ساتھ تکبیرکہنا چاہیے نہ کہ بعدعلی اثرسے یہ ہی مراد ہے،کنکری پھینکنے کی ابتداء اللّٰه پر اور انتہاء اکبر ہوتی ہے لہذاعلی اثرفرمانا درست ہے،صرفاللّٰه اکبرکہنا کافی ہے،بعض حجاجبسم اللّٰه اللّٰه اکبرکہتے ہیں،بعض لوگ کچھ دعا بھی پڑھتے ہیں اس میں حرج نہیں۔(مرقات و فتح القدیر)
۳
؎یعنی زمین کے سخت حصہ پر کھڑے ہو کر تو رمی کرتے پھر بعد رمی وہاں سے ہٹ جاتے تاکہ دوسرے رمی والوں کے لیے جگہ خالی ہوجائے اور نرم حصہ میں آکر روبقبلہ ہو کر دیر تک دعائیں مانگتے رہتے،اب یہ ہی سنت ہے سورۂ بقرہ تلاوت کرنے کی بقدر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے رہتے،اب لوگ مختصر ٹھہرتے ہیں۔
۴
؎رمی میں جمروں کی ترتیب احناف کے ہاں سنت ہے شوافع کاہاں واجب اور لگاتار رمی کرنا کے ہر جمرہ کی رمی دعا کے بعد فورًا دوسرے کی رمی کرنا احناف کے ہاں سنت ہے ،امام مالک کے ہاں واجب اسی لیے حجاج کو چاہیئے کہ ترتیب وار اور لگاتار ہی رمی کریں جیسے اعضا ء وضو کا دھونا ترتیب وار اور لگاتار چاہیئے۔
۵
؎جمرہ عقبہ کے سامنے کنارہ راہ پر نشیبی زمین ہے اور اس کے مقابل بلند زمین،سنت یہ ہے کہ نشیبی زمین سے رمی کرے تاکہ اوپر والی زمین پر کھڑے ہوئے آدمی کو کنکر نہ لگے،اوپر کی طرف سے رمی کرنے میں نیچے والوں کو لگ جانے سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے،مگر یہ سنت ہے اگر کوئی بلندی کی طرف سے رمی کرے تو بھی جائز ہے،بعض صحابہ نے یہ کیا تو دوسرے حضرات نے اس پر ، نہ اعتراض کیا نہ اعادہ کاحکم دیا خود حضورانور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس نشیبی زمین سے رمی کی مگر بلندی کی طرف سےرمی کی ممانعت نہ فرمائی لہذا حق یہ ہے کہ یہ سنت ہے اور وہ جائزہے۔ (مرقات)اس نشیبی زمین کا نام بطن وادی ہے۔
۶
؎جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد وہاں نہ ٹھہرنا اور فورًا اپنی منزل وغیرہ پر آجانا سنت ہے یا اس لیے کہ یہ جگہ برسرراہ ہے یہاں کھڑا ہونا اور لوگوں کی تکلیف کا باعث ہے یا اس لیے کہ اب رمی کی عبادت ختم ہوچکی دوران عبادت کی دعا کافی ہوگئی یا اس لیے کہ حاجی پر رحمت الٰہی کا نزول ہوچکا ہے۔اب ٹھہرنے کی مشقت برداشت کرنا ضروری نہیں،بہرحال سنت یہ ہی ہے کہ اس رمی پر نہ ٹھہرے۔واللّٰہ ورسولہ اعلم!(مرقات)
۷
؎یعنی یہ مذکورہ عمل سنت رسول اللّٰه بھی ہے اور سنت صحابہ بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2661