Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2670

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هٰذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍعَلٰى نَفْسِهٖ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلٰى وَلَدِهٖ وَلَا مَوْلُودٌ عَلٰى وَالِدِهٖ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَبَدًا وَلٰكِنْ سَتَكُونُ لَهٗ طَاعَةٌفِيمَا تَحْتَقِرُونَمِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيّ
وَصَحَّحَهٗ

عن عمرو بن الأحوص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع: «أي يوم هذا؟» قالوا: يوم الحج الأكبر. قال: «فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا ألا لا يجني جانعلى نفسه ولا يجني جان على ولده ولا مولود على والده ألا وإن الشيطان قد أيس أن يعبد في بلدكم هذا أبدا ولكن ستكون له طاعةفيما تحتقرونمن أعمالكم فسيرضى به » . رواه ابن ماجه والترمذي
وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن احوص سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا یہ کون دن ہے صحابہ نے عرض کیا حج اکبر کا دن ۱؎فرمایا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ۲؎خبردار کوئی مجرم اپنی جان پر ظلم نہ کرے۳؎خبردار کوئی مجرم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی فرزند اپنے باپ پر ۴؎خبردار شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر میں کوئی اسے پوجے ۵؎مگر جن گناہوں کو تم معمولی سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہوجایا کرے گی جس سے وہ راضی ہوتا رہے گا ۶؎(ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ بعض صحابہ نے یہ جواب دیا اور بعض نے عرض کیااللّٰه ورسولہ اعلم!یا یہ کوئی دوسرا واقعہ ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ صحابہ نےاللّٰه و رسولہ اعلمکہا۔حج اکبر کے بہت سے معانی ہیں:(۱) بقر عید کا دن حج اکبر ہے کیونکہ اکثر ارکان حج اسی دن میں ہوتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ"۔یہ اعلان بقرعید کے دن منٰی میں ہوا۔(۲) یا نویں عید کا دن حج اکبر کا دن ہے کہ اسی دن قیام عرفات ہے جو حج کا رکن اعلٰی ہے(۳) یا صرف حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا حج حج اکبر تھا کہ رسول اکبر نے حج فرمایا تھا اور حسن اتفاق سے اس دن یہود،نصاریٰ مجوسی وغیرہ کی چھ عیدیں جمع ہوگئیں تھیں (۴) یا جب نویں بقر عید جمعہ کوواقع ہو کہ اس کا ثواب ستر۷۰ حج کے برابر ہے یہ زیادہ مشہور ہے اور حضورا نور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا حج بھی جمعہ ہی کا ہوا تھا(۵)یا ہر حج حج ِ اکبر ہے اور عمرہ حج اصغر غرضکہ اس کے بہت معانی ہیں(مرقات،لمعات،اشعہ)
۲
؎یعنی جیسے مکہ معظمہ میں ان حج کی تاریخوں میں احرام کی حالت میں گناہ کرنا حرام کہ اس گناہ میں حرم شریف،مبارک تاریخ اور احرام کی بے حرمتی تین جرم اور شامل ہوجاتے ہیں،ایسے ہی کسی مسلمان بھائی کا ناحق خون کرنا،مال مارنا،بے آبروئی کرنا بہت سے جرموں کا مجموعہ ہے کہ اس میں اس مظلوم بندہ کی حق تلفی بھی رب تعالٰی کی قانونی شکنی اور میری مخالفت ہے مجھے اپنی امت بہت عزیز ہے،اسے ستانے والا مجھے کب پیارا ہوسکتا ہے۔
۳
؎یعنی خود کشی نہ کرے کہ یہ اپنی جان پرظلم و زیادتی ہے یا دوسرے مسلمانوں پرظلم نہ کرے کہ یہ درحقیقت اپنے پر ظلم ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"یعنی اپنے کو قتل نہ کرو یعنی بعض بعض کو قتل نہ کرے۔لا یَجنِیصیغہ تو نفی کا ہے مگر بمعنی نہی ہے،جیسے"لَا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَھَرُوۡنَ"یا جیسےرحمہ اللّٰهیاغفرلہکہ سب خبریں بمعنی انشاء ہیں۔
۴
؎یہ جملہ یا تو نہی ہے تو معنے یہ ہیں کہ ماں باپ اولاد پر ظلم نہ کریں کہ ان کا حق نہ دیں،انہیں تعلیم وغیرہ سے محروم رکھیں اور اولاد ماں باپ پرظلم نہ کرے کہ ان کا ادائے حق خدمت نہ کرے یا بمعنی نفی یعنی ماں باپ کے جرم میں اولاد گرفتار نہ ہوگی اور اولاد کے جرم میں ماں باپ کو پکڑ نہ ہوگی اپنی کرنی،اپنی بھرنی"اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"اہل جاہلیت باپ کا بدلہ اولاد سے اور اولاد کا بدلہ ماں باپ سے لیتے تھے اسی سے ممانعت ہے۔
۵
؎شیطان کو پوجنے سے مراد بت پرستی ہے اور اس میں غیبی خبر ہے،ان شاءاللّٰهمکہ معظمہ میں تا قیامت شرک و بت پرستی نہ ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ علانیہ نہ ہوگی کوئی خفیۃً وہاں جاکر چھپ کر بت پرستی کرے تو اس کی بدنصیبی ہے،غرضکہ یہ جگہ شرک سے محفوظ ہے۔
۶
؎یعنی مکہ معظمہ میں مسلمان گناہ،لڑائی،چوری،غیبت جھوٹ وغیرہ کرلیا کریں گے اور شیطان اس پر خوش ہوجایا کرے گا کہ میں ان سے کفر تو نہ کراسکا یہ غنیمت ہے یا سارے مسلمانوں سے روئے سخن ہے کہ مؤمن کے گناہوں سے شیطان راضی ہے اور کافر کے کفر سے راضی اسی لیے جھوٹ،خیانت دوسرے گناہ مسلمانوں میں زیادہ ہیں دوسری قوموں میں کم کہ شیطان کفار سے جب کفر کرالیتا ہے تو پھر دوسرے گناہ کرانے کی کوشش نہیں کرتا مگر جب مسلمانوں سے کفر نہیں کراسکتا تو ان سے دوسرے گناہ کرانے کی بہت کوشش کرتا ہے،ہمیشہ چور بھرے گھر میں جاتا ہے جس میں ہو ہی کچھ نہیں وہاں چور لے گا کیا۔حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں وسوسہ نہ آئیں وہ یہود و عیسائیوں کی سی نماز ہے۔(مرقات)مگر وسوسہ آنا اور ہے لانا کچھ اور۔مقصد یہ ہے کہ مسلمان وسوسوں کے باعث نماز سے بددل نہ ہوجائیں،لہذا حضرت علی کے فرمان پر کوئی اعتراض نہیں،کھانے پر مکھیاں آتی ہیں مکھیاں اڑائے جاؤ اور کھانا کھائے جاؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2670