Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2675

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ »

وفي رواية أحمد والنسائي عن ابن عباس قال: «إذا رمى الجمرة فقد حل له كل شيء إلا النساء »

حدیث ترجمہ

اور احمد و نسائی کی روایت میں حضرت ابن عباس سے یوں ہے کہ خود ان ہی نے فرمایا کہ جب جمرہ کی رمی کرے تو عورتوں کے سوا سب حلال ہے

شرح حدیث

یعنی احمد و نسائی نے حضرت عبداللّٰه ابن عباس کا خود اپنا قول نقل کیا،مرفوع حدیث نقل نہ کی مگر اس قسم کی موقوف حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔خیال رہے کہ احرام سے فارغ ہونے پر حجامت ہمارے ہاں واجب ہے،امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ کے ہاں سنت، ہماری دلیل رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے:"ثُمَّ لْیَقْضُوۡا تَفَثَهُمْ"۔اس سے مراد حجامت ہے اور رب تعالٰی کا یہ فرمان:"اٰمِنِیۡنَ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ" مگر چونکہ یہ استدلال ظنی ہے اس لیے اس سے وجوب ثابت ہے نہ کہ فرضیت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2675