Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2662

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: استأذن العباس بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبيت بمكة ليالي منى، من أجل سقايته، فأذن له (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے منٰی کی راتوں میں مکہ معظمہ رہنے کی اجازت مانگی ۱؎زمزم پلانے کی وجہ سے ۲؎تو حضور نے انہیں اجازت دے دی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عرض یہ کیا کہ میں گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ کو دن میں منٰی آکر جمروں کی رمی کر جایا کروں گا باقی اوقات مکہ معظمہ میں ہی رہوں گا،اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۲
؎یعنی چونکہ میرے ذمہ کنوئیں سے آب زمزم نکالنے اور لوگوں کو پلانے کی خدمت ہے،لوگ ہر وقت خصوصًا طوافوں کے بعد اور خصوصًا ان دنوں میں طواف زیارت کے بعد زمزم پیتے ہیں اگر میں منیٰ میں رہوں تو یہ خدمت بخوبی انجام نہیں پاسکتا۔خیال رہے کہ یہ زمزم نکالنے اور پلانے کی خدمت قصٰے ابن کلاب کو ملی تھی،پھر ان کے بیٹےعبدالمناف کو، پھر ان کے بیٹے ہاشم کو،پھر ان کے بیٹے عبد المطلب کو ملی،پھر ان کے فرزند عباس کو منتقل ہوئی،ان سے عبداللّٰه ابن عباس کو ان سے ان کے فرزند علی ابن عبداللّٰه کو ملی اور اب تک یہ خدمت آل عباس ہی کے قبضہ میں ہے جیسے کہ کعبہ معظمہ کی کلید برداری طلحہ ابن عبداللّٰه شیبی کی اولاد کے قبضہ میں ہے وہاں کی خدمات تقسیم ہوچکی ہیں،جو وراثۃً منتقل ہوتی ہیں۔
۳
؎خیال رہے کہ منٰی کے زمانہ میں راتیں منٰی میں گزارنا ہمارے ہاں سنت ہے،امام شافعی کے ہاں اکثر رات وہاں رہنا واجب مگر ان دونوں اماموں کے ہاں سخت مجبوری یا معذوری میں یہ حکم اٹھ جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2662