Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2669

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرٰى حَلْقٰى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» " قِيلَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَانْفِرِي"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: حاضت صفية ليلة النفر فقالت: ما أراني إلا حابستكم. قال النبي صلى الله عليه وسلم: «عقرى حلقى أطافت يوم النحر؟» " قيل: نعم. قال: "فانفري"(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ واپسی کے دن حائضہ ہوگئیں ۱؎تو بولیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں تم کو روک ہی لوں گی ۲؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اری بانجھ منڈی کیا تم نے بقر عید کے دن طواف کرلیا تھا عرض کیا ہاں فرمایا تو چلو۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت صفیہ بنت حییّ ابن اخطب ان کے والد یہودی تھے،خیبر کے باشندے بنی اسرائیل تھے،حضرت ہارون کی اولاد سے،آپ جنگ خیبر میں گرفتار ہوکر آئیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے آپ کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرمالیا،آپ ام المؤمنین ہیں۔
۲
؎اس طرح کہ میں عارضہ میں مبتلا ہوگئیں اور طواف وداع نہ کرسکوں گی،طواف کے لیے ایام گزرنے کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا اور آپ حضرات میری وجہ سے ٹھہریں گے۔
۳
؎بانجھ منڈی فرمایا غضب کے لیے نہیں بلکہ محبت کے اظہار کے لیے ہے جیسے بچوں کو ارے پاگل،ارے بے وقوف یا پنجابی اڑ جانیئے وغیرہ کہہ دیتے ہیں ورنہ حضرت صفیہ کا اس میں قصور کیا تھا جو ان پر غصہ آتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ کو طواف زیارت معاف نہیں اس کے لیے اسے ٹھہرنا پڑے گا،طواف وداع معاف ہے۔
مسئلہ: مکہ والوں پر یا جس نے مکہ معظمہ میں مستقل رہائش کا ارادہ کرلیا تھا مگر اب روانہ ہورہا ہے اس پر جو حج کا احرام باندھ کر حج نہ کرسکا عمرہ کر کے کھل گیا اس پر طواف وداع واجب نہیں،یوں ہی صرف عمرہ کرنے والے پر واجب نہیں۔بہتر یہ ہے کہ طواف کے بعد پھر زیادہ دیر مکہ معظمہ میں نہ ٹھہرے اور اگر دن میں طواف وداع کیا تھا مگر رات تک وہاں ٹھہرنا پڑ گیا تو بہتر یہ ہے کہ دوبارہ طواف کرے،یہ ہی امام اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ کا فرمان ہے۔(مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2669