Main Icon

باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2674

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمٰى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيفٌ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رمى أحدكم جمرة العقبة فقد حل له كل شيء إلا النساء» . رواه في "شرح السنة" وقال: إسناده ضعيف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کرے تو اس کے لیے بیوی کے سوا ہرچیز حلال ہوگئی ۱؎(شرح سنہ)اور فرمایا کہ اس کی اسناد ضعیف ہے

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب حاجی دسویں بقرعید کو جمرہ عقبہ کی رمی کرچکے تو جو چیزیں احرام سے حرام ہوچکی تھیں وہ تمام حلال ہو گئیں،ہاں ابھی بیوی سے صحبت حلال نہ ہوئی یہ تو طواف زیارت سے حلال ہوگی۔امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے نزدیک یہاں نساء سے مراد اپنی بیوی سے صحبت ہے،امام شافعی کے ہاں اس سے مراد عورت سے نکاح کرنا ہےکیونکہ ان کے ہاں احرام میں نکاح کرنا بھی حرام ہے طواف زیارت کے بعد حلال ہوتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ جمرہ عقبہ کی رمی سے مراد رمی مع ملحقات ہے،یعنی سر منڈانا و قربانی کرنا کہ ان تین کاموں سے ہر چیز حلال ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں رمی کی ملحقات سے ہیں لہذا رمی کے بعد سرمنڈانے اور قربانی سے پہلے سلے کپڑے اور خوشبو استعمال نہیں کرسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2674