Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2523

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أراد الحج فليعجل» . رواه أبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو حج کا ارادہ رکھتا ہو تو جلدی کرے ۱؎(ابوداؤد،دارمی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ موت آجانے اور مال یا قوت چلے جانے کا ہر وقت اندیشہ و خطرہ ہے اور ایک حج رہ جانے پرسال بھر تک انتظار کرنا ہے سال کس نے دیکھاہے۔فقہا فرماتے ہیں کہ حج علی الفور واجب ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا منع ہے،بلکہ امام ابویوسف و امام مالک کے ہاں یہ شخص فاسق ناقابل گواہی ہے،دیگر اماموں کے ہاں فاسق نہیں۔خیال رہے کہ تمام آئمہ کے ہاں حج علی الزمان واجب ہے یعنی جب بھی کرے گا ادا ہی ہوگا،قضا ء نہ ہوگا کہ اس کا وقت عمر بھر ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا فسق ہے یا نہیں۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو مالدار ہوتے ہیں بچوں کی شادیاں وغیرہ کے لیے حج نہیں کرتے ۔بعض جہلاء میں مشہور ہے کہ حج بڑھاپے میں کرنا چاہیے حالانکہ حج تو جوانی کا ہے جب کہ طواف و سفر بہ آسانی کرسکے اکثر لوگ بڑھاپے کے انتظار میں بغیر حج مرجاتے ہیں۔
۲
؎اسے حاکم نے بھی روایت کیا،بعض روایات میں ہے کہ اس سے پہلے حج کرلو جب کہ حج نہ کرسکو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2523