Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2539

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهٖ كَتَبَ اللّٰهُ لَهٗ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ والمعتمِرِ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من خرج حاجا أو معتمرا أو غازيا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي والحاج والمعتمر».رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو حاجی یا غازی یا عمرہ کرنے والا ہو کر نکلا پھر راستہ میں مر گیا ۱؎تو اس کے لیے غازی،حاجی اور عمرہ والے کا ثواب لکھ دیا گیا ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جاتے ہوئے مرگیا،حج یا عمرہ یا غزوہ نہ کرسکا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎اس کی تائید اس آیت سے ہے "وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰه وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰهِ"جو اپنے گھر سے مہاجر ہو کر نکلا پھر اسے موت آگئی تو اس کا ثواب اللّٰه کے ذمہ کرم پر ثابت ہوگیا مگر جو حج فرض ہونے کے بعد برسوں حج کو نہ گیا،پھر بڑھاپے میں گیا اور راہ میں مرگیا تو وہ ضرور اس دیر لگانے کا گنہگار ہے۔یہ حدیث اس کے لیے ہے جو بلا عذر حج میں دیر نہ لگائے کیونکہ حج فورًا ادا کرناچاہیئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ شخص بھی دیر لگانے کا گنہگارہو مگر اس کا یہ حج ہوجائے اللّٰه تعالٰی کریم ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2539