Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2512

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهٗ؟قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاقْضِ دَيْنَ اللّٰهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِالقَضَاءِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن أختي نذرت أن تحج وإنها ماتت فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لو كان عليها دين أكنت قاضيه؟قال: نعم قال: فاقض دين الله فهو أحق بالقضاء(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میری بہن نے حج کی منت مانی تھی اور وہ مر گئی ۱؎تو نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر اس پر قرض ہوتا تو تو ادا کرتا بولا ہاں ضرور فرمایا تو اللّٰه کا قرض بھی ادا کر ۲؎وہ تو زیادہ ادا کے لائق ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ بہن حج نذر ادا کیے بغیر مر گئی،کیا میں اس کی طرف سے حج کروں یا کسی سے کرادوں۔غالبًا یہ شخص اس بہن کے مال کا وارث ہوا تھا۔
۲
؎امام شافعی کے ہاں میت کا حج فرض اصل مال سے کرایا جائے گا کہ حج ایک قسم کا قرض ہےاور قرض میراث پر مقدم ہوتا ہے۔ ہمارے امام صاحب کے ہاں اگر میت حج بدل کرانے کی وصیت کر گیا ہے تو تہائی مال سے حج کرایا جائے گا۔غرضکہ امام شافعی کے ہاں میت کے ذمہ کا حج قرض کی طرح ہے اور ہمارے ہاں وصیت۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقہی قیاس برحق ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حق اللّٰه کو حق العبد پر قیاس فرمایا،یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی بھی قیاس کرسکتے ہیں۔
۳
؎کیونکہ خدا تعالٰی کا حق بندوں کے حق سے زیادہ ہے کہ وہ ہمارا مالک و مولٰی ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا یہ فرمان استحباب پر مبنی ہے یعنی بہتر ہے کہ تو اس کی طرف سے حج کردے ورنہ اگر میت کے ذمہ زکوۃ یا کفارہ قسم وغیرہ رہ گئے ہوں تو وہ کسی کے ہاں میراث پر مقدم نہیں بلکہ وصیت کی صورت میں تہائی مال سے ادا کیے جائیں گے لہذا مذہب حنفی نہایت قوی ہے،بندوں کے قرض میراث پر مقدم نہیں کہ بندہ محتاج ہے رب غنی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2512