Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2536

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللّٰهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ". » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «الحاج والعمار وفد الله إن دعوه أجابهم وإن استغفروه غفر لهم". » . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا حج و عمرہ کرنے والے اللّٰه کی جماعت ہیں ۱؎اگر یہ خدا سے دعا کریں تو رب ان کی قبول کرلے اور اگراس سے مغفرت مانگیں تو انہیں بخش دے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎جو اللّٰه تعالٰی کے گھر جارہے ہیں رب سے ملنے جارہے ہیں اور سلطان اپنے ملاقاتیوں کی بات مانتا ہے،ان کی سفارش قبول کر تا ہے اس لیے یہ لوگ بھی مقبول الدعا ہیں۔ان شاءاللّٰه !۲؎مسلمانوں کا طر یقہ ہے کہ حجاج کو پہنچانے،وداع کرنے اور واپسی پر ان کا استقبال کرنے کے لیے اسٹیشن تک جاتے ہیں ان سے دعا کراتے ہیں۔یہ اس حدیث پر ہی عمل ہے کہ حاجی گھر سے نکلتے ہی مقبول الدعا ہے اور واپس گھر میں داخل ہونے تک مستجاب الدعوات رہتا ہے۔خیال رہے کہ حاجی کو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے واحد فرمایا اور عمرہ کرنے والوں کو جمع تاکہ پتہ لگے کہ عمرہ والے سے حج والے کا درجہ زیادہ ہے کہ ایک حاجی عمرہ والوں کی جماعت کے برابر ہے کیوں نہ ہو کہ حج فرض ہے اور عمرہ سنت،یہ ہی مذہب احناف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2536