Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2522

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَرُورَةَ فِي الإِسْلَامِ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا صرورة في الإسلام ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اسلام میں ترک دنیا نہیں ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صَرُوْرَتْبروزن ضرورت،صَرٌّسے مشتق ہے بمعنی روکنا یا منع کرنا یا باز رہنا۔ترک دنیا یعنیتَبَّلْکو بھیصَرُوْرَۃْکہتے ہیں اور ترک حج کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی اسلام میں تارک الدنیا ہو جانا منع ہے کہ کوئی نکاح کرنے یا اچھا کھانا پینا ترک کرنے کا عہد کرے یا اسلام میں قادر و مالدار کو حج نہ کرنا منع ہے۔غالبًا صاحب مشکوٰۃ کے نزدیکصَرُوْرَتْکے یہ ہی معنی ہیں اسی لیے وہ یہ حدیث حج کے بیان میں لائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2522